رسائی کے لنکس

پاکستان: ایران سے گیس درآمد کرنے کی منظوری


فائل فوٹو

فائل فوٹو

گیس کی فراہمی ایران کے جنوبی ذخائر سے کی جائے گی جس کے لیے پاکستان کی سرحد تک 900 کلومیٹر طویل پائپ لائن بچھائی جانی ہے۔

پاکستان کی وفاقی کابینہ نے ملک میں توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایران سے گیس کی درآمد کے ایک اہم منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔

بدھ کو کابینہ کے اجلاس میں اس گیس پائپ لائن منصوبے کی تکمیل کے لیے درکار مالی وسائل کے حصول کے لیے وزیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔

اجلاس کے بعد وزیراطلاعات قمر زمان کائرہ نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ اُنھیں توقع ہے کہ اس منصوبے پر جلد سے جلد کام شروع ہو سکے گا۔

’’پاکستان نے اس کے لیے مالی وسائل کا بھی بندوبست کرنا ہے، ایران بھی اس میں مدد کرے گا، پاکستان کی اپنی کمپنیوں نے بھی صف بندی کرنی ہے۔ اس کے لیے کابینہ نے آج باقاعدہ منظوری دی ہے اس سے قبل کابینہ نے اس کی باقاعدہ منظوری نہیں دی تھی۔‘‘

پاکستان اور ایران کے درمیان 2010ء میں طے پانے والے دو طرفہ معاہدے کے تحت ایران نے 2014ء سے پاکستان کو قدرتی گیس کی برآمد شروع کرنا تھی۔

گیس کی فراہمی ایران کے جنوبی ذخائر سے کی جائے گی جس کے لیے پاکستان کی سرحد تک 900 کلومیٹر طویل پائپ لائن بچھائی جانی ہے، جب کہ قدرتی گیس کو درآمد کرنے کے لیے پاکستان کے اندر بھی 800 کلومیٹر طویل پائپ لائن کے بچھانے کا کام کیا جانا ہے۔

امریکہ نے پہلے ہی ایران میں تیل و گیس کے شعبے میں بڑی سرمایہ کاری پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

پابندیوں کے خوف سے بین الاقوامی مالیاتی ادارے تقریباً ساڑھے سات ارب ڈالر لاگت کے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کے لیے سرمایہ فراہم کرنے سے دور رہے ہیں۔

پاکستان توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے دیگر منصوبوں پر بھی غور کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں ’ٹیپی‘ کے نام سے ترکمانستان، افغانستان، پاکستان اور بھارت گیس پائپ لائن منصوبہ بھی شامل ہے۔
XS
SM
MD
LG