رسائی کے لنکس

پاکستان اور ایران کا تعلقات کو مزید مضبوط کرنے پر اتفاق

  • ستار کاکڑ

وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ ان کی حکومت چاہتی ہے کہ پنجگور، تربت اور گوادر میں تفتان کے زیروپوائنٹ کی طرز پر تجارتی منڈیاں قائم کی جائیں تاکہ ان علاقوں میں کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے۔

پاکستان اور ایران کے اعلیٰ عہدیداروں نے دونوں کے درمیان سرحد پر کشیدہ صورتحال کے تدارک اور باہمی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔

اتوار کو کوئٹہ میں ایرانی صوبے سیستان، بلوچستان کے گورنر آقائے علی اوسط ہاشمی کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی صوبے بلوچستان کے وزیراعلیٰ عبدالمالک بلوچ کا کہنا تھا کہ ان کی ایرانی عہدیدار سے ہونے والی ملاقات میں سلامتی کے امور سمیت دوطرفہ تجارتی روابط کو بڑھانے پر بھی بات چیت ہوئی اور فریقین نے اس ضمن میں مثبت پیش رفت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ایران کے سرحدی علاقوں کے اعلیٰ عہدیداروں کا ایک اہم اجلاس رواں ماہ ہوگا جس میں حالیہ مہینوں میں سرحد پر پیش آنے والے واقعات اور مستقبل میں ان کے تدارک کی مشترکہ کوششوں پر بات چیت ہوگی۔

"ہماری خواہش ہے کہ جو سرحدی واقعات ہوئے ہیں ہم مل کر ان کا مقابلہ کریں۔ 27 اور 28 جنوری کو یہ اجلاس ہوگا اس میں جو واقعات ہماری طرف ہوئے ہم ان کی تفصیل پہلے دے چکے ہیں اور جو ان کی طرف ہوئے وہ بھی ہمیں دے چکے ہیں اور مزید بھی معلومات اس میں دیں گے۔"

ایرانی صوبے کے گورنر اوسط ہاشمی کا کہنا تھا ماضی میں دونوں ملکوں کی سرحد پر کوئی کشیدگی نہیں ہوا کرتی تھی لیکن حالیہ مہینوں میں بعض شرپسند عناصر کی کارروائیوں کی وجہ سے یہاں صورتحال میں تناؤ دیکھا جارہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہر ملک کے دشمن ہوتے ہیں اور ایران کی حکومت چاہتی ہے کہ پاکستان کے اندر ایسے لوگ جو دونوں ملکوں کے تعلقات خراب کرتے ہیں ان کا قلع قمع کیا جائے۔

حالیہ مہینوں میں پاک ایران سرحد پر دونوں جانب سے ایک دوسرے پر یہ الزامات عائد کیے جاتے رہے کہ سرحد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فورسز نے کارروائیاں کیں جن میں دونوں جانب متعدد سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔

بلوچستان کے وزیراعلیٰ عبدالمالک بلوچ کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت چاہتی ہے کہ پنجگور، تربت اور گوادر میں تفتان کے زیروپوائنٹ کی طرز پر تجارتی منڈیاں قائم کی جائیں تاکہ ان علاقوں میں کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے۔

انھوں نے ایران کے ساتھ ایک ہزار میگاواٹ بجلی کے ایک منصوبے کو بھی پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے اقدامات تیز کرنے کا کہا۔

پاکستان اور ایران کے درمیان قریبی دوستانہ تعلقات ہیں اور دونوں ملکوں کی قیادت یہ کہہ چکی ہے کہ سرحدوں پر پیش آنے والے اکا دکا تشدد کے واقعات ان کے دیرینہ تعلقات پر اثر انداز نہیں ہوں گے۔

XS
SM
MD
LG