رسائی کے لنکس

سعید جدون کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کو سیکڑوں تجارتی اشیا پر ڈیوٹی کی مد میں تخفیف دے رکھی ہے لیکن پانچ ارب ڈالر سالانہ کا تجارتی ہدف حاصل کرنے کے لیے مزید اقدام ضروری ہے۔

پاکستان اور ایران کی ایک مشترکہ تجارتی کمیٹی نے دو طرفہ تجارت کو بڑھانے کے لیے ویزہ پالیسی کو نرم کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ تجارتی حجم کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ جنوب مغربی پاکستانی صوبے بلوچستان اور ایران کے صوبہ سیستان بلوچستان کی پسماندگی کو ختم کرنے میں بھی مدد لی جا سکے۔

اس حوالے سے دونوں ملکوں کے متعلقہ عہدیداروں کا دور روزہ اجلاس رواں ہفتے کو کوئٹہ میں ہوا جس کی بعد کسٹم کلکٹر بلوچستان سعید احمد جدون اور ایرانی وفد کے سربراہ میرنادر شکاری نے مشترکہ طور پر صحافیوں کو بتایا کہ دونوں ممالک کی سرحدی علاقوں میں رہنے والوں کو روزگار فراہم کرنے کے لیے ان علاقوں میں پانچ تجارتی منڈیاں قائم کرنے کا کام جاری ہے۔

سعید جدون کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کو سیکڑوں تجارتی اشیا پر ڈیوٹی کی مد میں تخفیف دے رکھی ہے لیکن پانچ ارب ڈالر سالانہ کا تجارتی ہدف حاصل کرنے کے لیے مزید اقدام ضروری ہے۔

"ہمارا اور ایران کا ایک معاہدہ ہے جس میں 300 چیزوں پر ایران نے ہمیں تخفیف دی ہوئی اور ڈیوٹی ٹیکسز میں اور ہم نے بھی تقریباً تین سو اشیا پر ایسی ہی چھوٹ دی ہوئی ہے۔۔۔لیکن تجارت کو پانچ ارب ڈالر تک بڑھانے کے لیے یہ تین سو چیزیں کافی نہیں اس کے لیے ایران نے تجویز دی ہے کہ دونوں ملکوں آزادانہ تجارت کا معاہدہ ہو۔ ان کے پاس حکمت عملی ہے۔"

پاکستان اور ایران کے درمیان اس وقت تجارت کا سالانہ حجم ایک ارب ڈالر ہے جبکہ دونوں حکومتوں نے اسے آئندہ پانچ سالوں میں پانچ ارب ڈالر تک بڑھانے کا عزم ظاہر کر رکھا ہے۔

دوسری طرف بلوچستان چیمبر آف کامرس کے صدر جمال ترہ کئی نے پاک ایران جوائنٹ بارڈر ٹریڈ کمیٹی کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اجلاسوں سے بلوچستان کے تاجروں کی مشکلات کم ہوں گی۔

" جتنے بھی ہمارے ایران کے حوالے سے مشکلات تھیں وہ ان کے وفد کے سربراہ اور ان کے وفد کو بتائیں، یقین دہانی بھی کروائی گئی اور سب سے بڑی دوسری بات ہے دونوں چیمبر، زاہدان چیمبر، کو ئٹہ چیمبر کے حوالے سے بات ہوئی جو قونصل جنرل پاکستان اور قونصل جنرل ایران ہمارے ضامن ہوں گے اور اُس کمیٹی (کے سامنے) جو ہماری مشکلات آئیں گی وہ مشکلات اُس میں کم ہو ں گی"۔

دونوں ملکوں کی ٹریڈ کمیٹی نے پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت میں اضافے کے لیے ریلوے کو بھی فعال کرنے کا معاہدہ کیا ہے اور مہینے میں آٹھ مال گاڑیاں ایران بھیجنے اور کوئٹہ تا زاہدان ہوائی سفر کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

XS
SM
MD
LG