رسائی کے لنکس

پاکستان نے اشیا کے تبادلے کے ایک معاہدے کے تحت ایران کو دس لاکھ ٹن گندم برآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزارت پانی و بجلی کے ایک ترجمان نے خبررساں ادارے ’رائٹرز‘ کو بتایا ہے کہ ایک پاکستانی وفد اپریل کے اوائل میں تہران جا کر اس پر مزید بات چیت کرے گا۔

’’حکومت پاکستان نے ہفتہ کو ہونے والے ایک اجلاس میں فیصلہ کیا ہے کہ وہ اشیا کے تبادلے کی تجارتی نظام کے تحت دس لاکھ ٹن گندم ایران کو برآمد کرے گی۔‘‘

ایرانی عہدے داروں نے گزشتہ ماہ دورہ پاکستان کے موقع پر گندم کی اس فراہمی کی درخواست کی تھی۔

پاکستانی ترجمان تنویر عالم کے بقول اشیا کے تبادلے کی تجارت کے تحت گندم کی فراہمی کے معاہدے کو حتمی شکل دینا ابھی باقی ہے۔

’’ابھی صرف یہی فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہم ایران کو دس لاکھ ٹن گندم برآمد کرنا چاہتے ہیں اور اس کے بدلے کھاد کا حصول ہماری ترجیح ہوگی لیکن ہمیں ابھی دیکھنا ہے کہ مذاکرات کی میز پر کیا پیشکش کی جاتی ہے۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ ایران سے گندم کے بدلے پاکستان خام لوہا بھی درآمد کرسکتا ہے لیکن اُنھوں نے اس بارے میں مزید کوئی تفصیلات نہیں بتائیں۔

ایران پر امریکہ اور یورپ کی طرف سے لگائی جانے والی تعزیرات میں خوراک کی ترسیل پر کوئی پابندی نہیں۔ لیکن نئی پابندیوں کے باعث ایرانی کمپنیاں عالمی بینکنگ کے نظام سے تقریباً کٹ کررہ گئی ہیں کیونکہ ادائیگیوں میں مشکلات نے تاجروں کی حوصلہ شکنی کی ہے۔

ایران نے تعزیرات سے بچتے ہوئے اور ملک میں بےچینی کو روکنے کےلیے مختلف ذرائع سے ملک میں گندم کی سالانہ کھپت کے ایک بڑے حصے، تقریباً بیس لاکھ ٹن، کی خریداری کے لیے آرڈر گزشتہ ماہ جاری کیا تھا۔

XS
SM
MD
LG