رسائی کے لنکس

’دولت اسلامیہ‘ کی تنظیم کا پاکستان میں کوئی وجود نہیں: سینیٹر مشاہد اللہ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

سینیٹر مشاہد اللہ نے کہا کہ بعض شدت پسند عناصر جن کا مکمل طور پر خاتمہ نہیں ہوا ہے اُن کے بعض بچے کچھے لوگ ’دولت اسلامیہ‘ کا نام لے کر خوف و ہراس پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پاکستان کی حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے ایک سینیئر رہنما سینیٹر مشاہد اللہ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں اُن خبروں کی نفی کی جن میں پاکستان میں دولت اسلامیہ کی موجودگی کے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

سینیٹر مشاہد اللہ نے کہا کہ دولت اسلامیہ کا ملک میں کوئی حقیقی وجود نہیں ہے، اُن کے بقول بعض شدت پسند عناصر جن کا مکمل طور پر خاتمہ نہیں ہوا ہے اُن کے بعض بچے کچھے لوگ ’دولت اسلامیہ‘ کا نام لے کر خوف و ہراس پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

’’جو (آپریشن) ضرب عضب ہوا ہے ۔۔۔ اس سے ایک بہت وسیع پیمانے پر دہشت گردوں کی سرکوبی ہوئی ہے، جب آپ کسی علاقے میں دہشت گردوں کی سرکوبی کرتے ہیں تو پھر وہ پناہ تلاش کرتے ہیں۔۔۔۔ تو یہ وہی لوگ ہیں جو ماضی میں دہشت گردی میں ملوث رہے ہیں ان میں کچھ بچے کھچے لوگ ہوں گے تو وہ اس کا (دولت اسلامیہ) کا نام استعمال کر رہے ہوں گے اور میں نہیں سمجھتا کہ اس طرح کی کوئی تنظیم ہو گی جس کا وجود (پاکستان میں) ہو گا۔‘‘

سینیٹر مشاہد اللہ کا کہنا تھا کہ پڑوسی ملک افغانستان میں بھی اب ایسے حالات نہیں کہ کوئی دہشت گرد تنظیم اپنے پاؤں جما سکے۔

دولت اسلامیہ شام اور عراق کے کئی علاقوں پر قابض ہے جس کے خلاف امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک نے فضائی کارروائیاں بھی کیں۔

واضح رہے کہ حال ہی میں پاکستان کے مختلف شہروں میں شدت پسند تنظیم ’دولت اسلامیہ‘ کے حق میں دیواروں پر تحریریں دیکھی گئیں جس کے بعد پولیس نے مشتبہ افراد کے خلاف کارروائی بھی کی۔

پاکستانی وزارت خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے چند روز قبل کہا کہ اُن کے خیال میں گرفتار کیے گئے افراد میں سے کوئی بھی غیر ملکی نہیں۔

تسنیم اسلم نے بتایا دولت اسلامیہ کے حق میں ایسی تحریروں میں ملوث کچھ افراد کو پولیس نے گرفتار کیا ہے جن سے تحقیقات جاری ہیں اور اس بات کی تفتیش کی جا رہی ہے کہ مشتبہ لوگ دھوکا دے رہے تھے یا اُن کا تعلق حقیقت میں دولت اسلامیہ سے ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے بقول بعض اوقات ایسے عناصر ہوتے ہیں جو صرف خوف پھیلانے کے لیے ایسا کرتے ہیں۔

پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار بھی حالیہ ہفتوں میں ایک سے زائد مرتبہ یہ کہہ چکے ہیں کہ شدت پسند تنظیم ’دولت اسلامیہ‘ کا پاکستان میں کوئی وجود نہیں ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ بغیر شواہد کے دولت اسلامیہ کی پاکستان میں موجودگی سے متعلق بیانات کا مقصد ملک کو بدنام کرنا ہے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سابق مرکزی ترجمان شاہد اللہ شاہد اور اس تنظیم کے پانچ دیگر اہم کمانڈروں نے کچھ ہفتے قبل دولت اسلامیہ سے وفاداری اور اس کے سربراہ ابو بکر البغدادی کی خلافت کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

واضح رہے کہ تحریک طالبان پاکستان شاہد اللہ شاہد کو ترجمان کی حیثیت سے برطرف کر چکی ہے۔

پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت یہ کہتی آئی ہے ملک سے دہشت گردوں کو مکمل طور پر ختم کیا جائے گا۔

فوج نے شدت پسندوں کے مضبوط گڑھ شمالی وزیرستان میں 15 جون سے ’ضرب عضب‘ کے نام سے کارروائی شروع کر رکھی ہے جس میں اب تک 1200 سے زائد ملکی و غیر ملکی شدت پسند ہلاک ہو چکے ہیں۔​

XS
SM
MD
LG