رسائی کے لنکس

امریکہ پاکستان کا اہم اقتصادی شراکت دار ہے: وزیراعظم


فائل فوٹو

فائل فوٹو

حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی رانا افضل نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ چین کی طرف سے 46 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان پر بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھا ہے۔

وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ امریکہ پاکستان کا ایک اہم اقتصادی و تجارتی شراکت دار ہے اور امریکی کاروباری برادری کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہیئے۔

جمعرات کو اسلام آباد میں پاک امریکہ بزنس فورم کے شرکا کے اعزاز میں دیے گئے ظہرانے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال پاکستان کی مجموعی ملکی پیداوار کی شرح نمو میں 4.26 فیصد اضافہ ہوا اور ممتاز بین الاقوامی اشاعتی اور درجہ بندی کے اداروں نے پاکستان کی اقتصادی کارکردگی کو سراہا ہے۔

ان کے بقول امریکی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کر کے قابل ذکر منافع کما رہی ہیں اور امریکہ کی کاروباری برادری کو پاکستان میں کاروبار دوست پالیسیوں اور مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہیئے۔

جون 2013ء میں برسراقتدار آنے کے بعد وزیراعظم نواز شریف نے ملک کی معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کو بیرونی سرمایہ کاری کے لیے پرکشش ملک بنایا جائے گا۔

لیکن سکیورٹی کی صورتحال سمیت توانائی کا بحران اس مقصد کے حصول میں ایک بڑی رکاوٹ تصور کیا جاتا رہا۔

تاہم وزیراعظم نواز شریف نے جمعرات کو اپنے خطاب میں کہا کہ توانائی کی قلت پر قابو پانا ان کی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور ان کے بقول 2017ء تک قومی گرڈ میں دس ہزار میگاواٹ بجلی شامل کرنے کا منصوبہ بنایا جا چکا ہے۔

ناقدین یہ کہتے آئے ہیں کہ حکومتی دعوؤں کے باوجود ملک میں خاطر خواہ بیرونی سرمایہ کاری دیکھنے میں نہیں آئی جب کہ توانائی کی قلت بھی آنے والے برسوں میں پوری ہوتی دکھائی نہیں دیتی کیونکہ وقت کے ساتھ ساتھ طلب اور رسد کے بڑھتے ہوئے فرق سے صورتحال مزید مشکل ہو سکتی ہے۔

تاہم حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی رانا افضل نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ چین کی طرف سے 46 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان پر بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھا ہے اور حکومت کی کوششوں سے توانائی سے متعلق منصوبوں کے ثمرات بھی جلد سامنے آنا شروع ہو جائیں گے۔

وزیراعظم سمیت حکومت میں شامل دیگر عہدیدار دنیا کے مختلف ملکوں کے دوروں کے دوران پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے کاروباری شخصیات کو دعوت دیتے رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG