رسائی کے لنکس

نیویارک مقدمے میں آئی ایس آئی کے دفاع کا فیصلہ


آئی ایس آئی کے سربراہ لفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا اور وزیراعظم گیلانی کے درمیان ایک ملاقات کا منظر (فائل فوٹو)

آئی ایس آئی کے سربراہ لفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا اور وزیراعظم گیلانی کے درمیان ایک ملاقات کا منظر (فائل فوٹو)

امریکی عدالت نے اس مقدمے کے تمام فریقین کو اپنا موقف بیان کرنے کے لیے جنوری میں عدالت کے سامنے پیش ہونے کے سمن جاری کر رکھے ہیں۔ اس مقدمے پر پاکستان میں خاص طور پر اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے کڑی مذمت اور حکومت سے اس پر سخت موقف اپنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے کیونکہ اُن کے بقول امریکی عدالت میں دائر مقدمے پاکستانی فوج کو بدنام کرنے کی مہم کا حصہ ہیں۔

پاکستان نے آئی ایس آئی ، اس کے موجود ہ اور سابق سر براہان کے خلاف امریکہ کی ایک عدالت میں دائر مقدمے کا ”مکمل اور موزوں “ انداز میں دفاع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزارت خارجہ نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومت نے اس سلسلے میں واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانہ کو ہدایات جاری کردی ہیں۔ بیان میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ پاکستان کا ارادہ ہے کہ اس مقدمے کو موزوں قانونی اقدامات کر کے خارج کروایا جائے۔

اس سے قبل پاکستانی وزیر اعظم نے گذشتہ ہفتے پارلیمان میں اس موضوع پر حکومت کا موقف پیش کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ آئی ایس آئی کو بطور ادارہ اور اس کے موجودہ و سابق افسران کو امریکی عدالتوں میں سول مقدمے میں شامل نہیں کیا جا سکتا ہے، اور نا ہی اُنھیں ایسا کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔

نیویارک کی عدالت میں دائر دو مقدمات میں نومبر2008ء کے ممبئی حملوں میں ہلاک ہونے والے امریکی شہریوں کے لواحقین نے متعدد پاکستانی شہریوں سمیت آئی ایس آئی کے موجودہ سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا اور اُن کے پیش رو کو فریق بنایا ہے ۔ درخواست گزاروں نے متاثرہ خاندانوں کو مالی معاوضے ادا کرنے کامطالبہ کیا ہے۔

امریکی عدالت نے اس مقدمے کے تمام فریقین کو اپنا موقف بیان کرنے کے لیے جنوری میں عدالت کے سامنے پیش ہونے کے سمن جاری کر رکھے ہیں۔ اس مقدمے پر پاکستان میں خاص طور پر اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے کڑی مذمت اور حکومت سے اس پر سخت موقف اپنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے کیونکہ اُن کے بقول امریکی عدالت میں دائر مقدمے پاکستانی فوج کو بدنام کرنے کی مہم کا حصہ ہیں۔

حملوں کا نشانہ بننے والی عمارت

حملوں کا نشانہ بننے والی عمارت

بھارت کے اقتصادی مرکز ممبئی میں نومبر 2008ء میں ہونے والے خونریزحملوں میں غیر ملکیوں سمیت 166 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ بھارت کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں ملوث دس دہشت گردوں میں سے نو کو سکیورٹی فورسز نے ہلاک اور ایک پاکستانی شہری کو زندہ گرفتار کر لیا تھا۔

امریکی عدالت میں دائر مقدمات میں درخواست گزاروں کے وکلا ء نے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ مقدمے کا فیصلہ اُن کے حق میں ہوگا کیونکہ سکالینڈ کے شہر لاکربی سے پرواز کرنے والے ایک امریکی مسافر طیارے کو بم سے اڑانے کا الزام لیبیا پر ثابت ہونے کے بعد متاثرہ خاندانوں کو ڈیڑھ ارب ڈالر معاوضہ ادا کیا گیاتھا۔

XS
SM
MD
LG