رسائی کے لنکس

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں پائی جانے والی کشیدگی میں کمی اور اعتماد سازی کے لیے پاکستان کی طرف سے افغان سیاسی و عسکری قیادت سے رابطوں میں اضافہ ہوا۔

پاکستان کے پارلیمانی وفد اور گزشتہ ہفتے فوج کے ایک اعلیٰ سطحی وفد کے دورہ افغانستان کے بعد اب پاکستانی انٹیلی جنس ادارے ’آئی ایس آئی‘ کے ڈائریکٹر جنرل لفٹیننٹ جنرل نوید مختار کا دورہ کابل متوقع ہے۔

قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کی قیادت میں پاکستان کے ایک اعلی سطحی پارلیمانی وفد نے 29 اور 30 اپریل کو افغانستان کا دورہ کیا۔

وطن واپسی کے بعد ایاز صادق نے پیر کو اسلام آباد میں اپنے ساتھ کابل جانے والے اراکین پارلیمان کے ہمراہ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ اُن کا یہ دورہ انتہائی مفید رہا۔

پاکستان کے پارلیمانی وفد کا دورہ افغانستان
پاکستان کے پارلیمانی وفد کا دورہ افغانستان

اُن کا کہنا تھا کہ دونوں ہی جانب سے اپنے اپنے تحفظات کا اظہار کیا گیا، لیکن دہشت گردوں کی موجودگی سے متعلق کسی طرح کی فہرستوں کا تبادلہ نہیں ہوا۔

’’میرا خیال ہے کہ ہمارے ڈٓائریکٹر جنرل آئی ایس آئی، کل یا پرسوں وہاں تشریف لے جا رہے ہیں، (دہشت گردوں کی موجودگی سے متعلق) یہ باتیں اُن کی سطح پر ہوں گی۔ جو دوازے ایک دوسرے کے لیے بند ہو گئے تھے، ہم تو وہ کھولنے گئے تھے۔ ہم اپنے مسلمان بھائیوں، ہمسائے کے ساتھ جو رابطے ٹوٹ گئے تھے اُن کو خوشگوار کرنے کے لیے گئے تھے۔‘‘

ایاز صادق نے کہا کہ دورہ کابل کے دوران افغان اراکین پارلیمان، صدر اشرف غنی، چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ اور سابق افغان صدر حامد کرزئی کے علاوہ افغان قبائلی عمائدین اور دیگر اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقاتوں کے طویل دور ہوئے۔

’’اُنھوں نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور ہم نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔۔۔ مگر خواہش دونوں طرف ایک ہی نظر آئی کہ تعلقات جو منقطع تھے اُن کو نا صرف بحال کیا جائے، بلکہ اُن کو مثالی بنایا جائے۔‘‘

ایاز صادق کا کہنا تھا کہ توقع ہے کہ افغان رہنما بھی جلد پاکستان کا دورہ کریں گے۔

’’اُنھوں نے ہم سے وعدہ کیا کہ (سابق صدر) حامد کرزئی صاحب اور (افغانستان کے چیف ایگزیکٹو) عبداللہ عبداللہ صاحب جلد پاکستان تشریف لے کر آئیں گے اور سلسلہ جہاں سے ٹوٹا تھا ہم وہاں سے شروع کریں گے۔۔۔ ایک دوسرے سے انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور تعاون کا وعدہ کیا۔‘‘

پاکستانی پارلیمانی وفد کے اس دورے سے قبل فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی ہدایت پر گزشتہ ہفتے پاکستانی فوج کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے بھی کابل کا دورہ کیا۔

پاکستانی فوج کے چیف آف جنرل اسٹاف لفٹیننٹ جنرل بلال اکبر دورہ افغانستان کے موقع پر
پاکستانی فوج کے چیف آف جنرل اسٹاف لفٹیننٹ جنرل بلال اکبر دورہ افغانستان کے موقع پر

پاکستانی فوج کے چیف آف جنرل اسٹاف لفٹیننٹ جنرل بلال اکبر کی قیادت میں کابل جانے والے پاکستانی وفد نے افغانستان کے قائم مقام وزیر دفاع طارق شاہ بھرامی اور افغانستان کی فوج کے سربراہ محمد شریف سے ملاقات کی تھی۔

پاکستانی فوج کے ایک بیان کے مطابق عسکری وفد نے سرحد کی نگرانی سے متعلق اقدامات پر بھی بات کی جب کہ افغان عہدیداروں کو بتایا گیا کہ اب افغان سرحد کے قریب قبائلی علاقوں پر پاکستانی فوج کا کنٹرول ہے اور پاکستان اپنی سرزمین افغانستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا۔

رواں سال فروری میں ملک کے مختلف علاقوں میں تواتر کے ساتھ دہشت گردوں حملوں کی ایک نئی لہر کے بعد پاکستان نے افغانستان سے اپنے تمام سرحدی راستے بند کر دیئے تھے جو تقریباً ایک ماہ بعد کھولے گئے۔

دونوں ہی ملکوں کی طرف سے اس دوران ایک دوسرے کے ہاں موجود دہشت گردوں سے متعلق فہرستوں کا تبادلہ بھی ہوا جب کہ پاکستان نے افغانستان سے ملحقہ سرحد پر باڑ لگانے کا کام بھی شروع کر رکھا ہے۔

ان حالات میں پہلے سے تناؤ کے شکار دوطرفہ تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے تاہم تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG