رسائی کے لنکس

’آئی ایس آئی‘ کے سربراہ کا دورہ امریکہ


لفٹیننٹ جنرل رضوان اختر (فائل فوٹو)

لفٹیننٹ جنرل رضوان اختر (فائل فوٹو)

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ کی طرف سے بدھ کو جاری ہونے والے ایک مختصر بیان کے مطابق لفٹیننٹ جنرل رضوان امریکہ کے دورے کے دوران اپنے ہم منصبوں سے انٹیلی جنس سے متعلق اُمور پر بات چیت کریں گے۔

پاکستان کے عسکری انٹیلی جنس ادارے ’آئی ایس آئی‘ کے سربراہ لفٹیننٹ جنرل رضوان اختر امریکہ کا سرکاری دورہ کر رہے ہیں۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ کی طرف سے بدھ کو جاری ہونے والے ایک مختصر بیان کے مطابق لفٹیننٹ جنرل رضوان امریکہ کے دورے کے دوران اپنے ہم منصبوں سے ملاقاتوں میں انٹیلی جنس سے متعلق اُمور پر بات چیت کریں گے۔

اطلاعات کے مطابق دونوں ممالک کے عسکری عہدیداروں کے درمیان بات چیت میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جاری تعاون کو مزید فروغ دینے کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔

پاکستانی سفارتی ذرائع کے مطابق یہ دورہ دونوں ملکوں کے درمیان طویل المدت شراکت داری کے ’اسٹرٹیجک مذاکرات‘ کا حصہ ہے جس میں پاکستان اپنی عسکری ضروریات سے امریکی حکام کو آگاہ کرے گا۔

گزشتہ ہفتے ہی واشنگٹن میں ہونے والی انسداد دہشت گردی کانفرنس میں پاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثار نے بھی شرکت کی تھی۔

جب کہ بعد میں اُنھوں نے امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری اور صدر براک اوباما کی مشیر برائے قومی سلامتی سوزن رائس سے بھی ملاقاتیں کی تھیں۔

سوزن رائس نے کہا تھا کہ ان کا ملک دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے پاکستانی قیادت اور عوام کے عزم کو سراہتا ہے۔

پاکستانی وزیر داخلہ نے امریکی عہدیداروں سے ملاقاتوں میں اُنھیں پاکستان میں شدت پسندوں کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وضع کردہ قومی لائحہ عمل سے متعلق بھی آگاہ کیا۔

گزشتہ چند برسوں میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں تناؤ بھی دیکھا گیا، لیکن حالیہ مہینوں میں دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطوں اور تعاون میں بہتری دیکھی جا رہی ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کے گزشتہ سال نومبر میں دورہ امریکہ کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

XS
SM
MD
LG