رسائی کے لنکس

آئی ایس آئی کومقدمے میں ملوث کرنے پر اپوزیشن کا احتجاج


آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل، لیفٹینٹ جنرل شجاع پاشا، دائیں، ایک فائل فوٹو میں جنرل کیانی اور امریکہ کے ایڈمرل مائک ملن کے ساتھ۔

آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل، لیفٹینٹ جنرل شجاع پاشا، دائیں، ایک فائل فوٹو میں جنرل کیانی اور امریکہ کے ایڈمرل مائک ملن کے ساتھ۔

بھارتی حکام کا الزام ہے کہ حملہ آوروں کا تعلق پاکستان کی انتہاپسند کالعدم تنظیم لشکر طیبہ سے تھا اور ان حملوں کی منصوبہ بندی میں آئی ایس آئی کا ہاتھ تھا لیکن پاکستانی حکومت کسی بھی ریاستی ادارے کے ملوث ہونے کے الزامات کو مسترد کرتی ہے۔

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ آئی ایس آئی پاکستان کا ایک انتہائی اہم اور حساس ادارہ ہے جس کی مرضی کے بغیراس کے سربراہ کو امریکی عدالت کے سامنے پیش ہونے پر کوئی مجبور نہیں کرسکتا۔

ممبئی حملوں کا نشانہ بننے والے امریکی شہریوں کے رشتہ داروں نے نیویارک کی ایک عدالت میں مقدمہ دائر کر رکھا ہے جس میں دیگر پاکستانی شہریوں کے علاوہ ملک کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے موجودہ اور سابق سربراہان کو فریق بنایا گیا ہے ۔

رواں ہفتے ہونے والی اس مقدمے کی ایک سماعت کے بعدفریق بنائے گئے تمام پاکستانیوں کو عدالت کے سامنے اپنا موقف پیش کرنے کے سمن جاری کیے گئے ہیں۔ جمعرات کو قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چودھری نثار علی خان نے تقریر کرتے ہوئے امریکی عدالت کے فیصلے کی مذمت کی اور کہا کہ اس مقدمے کے سیاسی محرکات ہیں جن کا مقصد آئی ایس آئی اور پاکستان پر دباؤ ڈالنا ہے۔

ایوان میں موجود وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے قائدحزب اختلاف کے خدشا ت پر حکومت کا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک حساس معاملہ ہے جس پر وہ مکمل مشاورت کے بعد باضابطہ بیان دیں گے۔ تاہم انھوں نے کہا کہ ”اگر آئی ایس آئی نہیں چاہے گی توکوئی بھی اس کے (سربراہ) کو امریکی عدالت کے سامنے پیش ہونے پر مجبور نہیں کرے گا۔ “

ممبئی حملوں کی جائے وقوعہ کا ایک منظر

ممبئی حملوں کی جائے وقوعہ کا ایک منظر

بھارت کے اقتصادی مرکز ممبئی میں نومبر 2008ء میں ہونے والے خونریزحملوں میں غیر ملکیوں سمیت 166 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ بھارت کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں ملوث دس دہشت گردوں میں سے نو کو سکیورٹی فورسز نے ہلاک اور ایک پاکستانی شہری کو زندہ گرفتار کر لیا تھا۔

بھارتی حکام کا الزام ہے کہ حملہ آوروں کا تعلق پاکستان کی انتہاپسند کالعدم تنظیم لشکر طیبہ سے تھا اور ان حملوں کی منصوبہ بندی میں آئی ایس آئی کا ہاتھ تھا لیکن پاکستانی حکومت کسی بھی ریاستی ادارے کے ملوث ہونے کے الزامات کو مسترد کرتی ہے۔

امریکی درخواست گزاروں نے کہا ہے کہ وہ اس مقدمے کا فیصلہ اپنے حق میں ہونے کے بارے میں پُر اُمید ہیں کیونکہ کہ 1988 میں سکاٹ لینڈ کے شہر لاکر بی کی فضاؤں میں پرواز کرنے والے پین ایم مسافرطیارے کو بم سے اُڑانے کا الزام ثابت ہونے پر لیبیا نے بھی اس واقعے کا شکار ہونے والے افراد کے لواحقین کو ڈیڑھ ارب ڈالر معاوضہ ادا کیا تھا۔

آئی ایس آئی کے سربراہ اور دیگر ماتحت افسران کے علاوہ لشکر طیبہ سے تعلق رکھنے والے کئی ارکان کو امریکی عدالت نے جنوری میں پیش ہونے کے سمن جاری کیے ہیں۔

XS
SM
MD
LG