رسائی کے لنکس

عہدیداروں کے مطابق لگ بھگ چار کلو گرام دھماکا خیز مواد سڑک کنارے فٹ پاتھ میں نصب کیا گیا تھا۔

پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی راولپنڈی کے اسپتال سے اُن کی اسلام آباد میں واقع رہائشگاہ منتقلی کے وقت جمعرات کی صبح اُن کی گزر گاہ پر ایک بم دھماکا ہوا۔

یہ دھماکا مصروف اور اہم ’’فیض آباد‘‘ چوک کے قریب ہوا۔

پولیس کے مطابق بم دھماکے سے کسی طرح کا جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ عہدیداروں کے مطابق لگ بھگ چار کلو گرام دھماکا خیز مواد سڑک کنارے فٹ پاتھ میں نصب کیا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق بظاہر یہ بم سابق صدر کے قافلے کو نشانہ بنانے کے لیے ہی نصب کیا گیا تھا اور اس کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

سابق فوجی صدر کی ترجمان آسیہ اسحاق نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ پرویز مشرف کا قافلے گزرنے کے بعد یہ دھماکا ہوا۔

پرویز مشرف دو جنوری سے راولپنڈی میں امراض قلب کے ایک فوجی اسپتال میں زیر علاج تھے جہاں سے وہ جمعرات کی صبح اپنی رہائشگاہ منتقل ہو گئے۔

پرویز مشرف کی اسپتال سے عدالت پیشی کے لیے سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے جاتے رہے ہیں۔

حال ہی میں وزارت داخلہ نے انیٹلی جنس اداروں سے ملنے والی معلومات کی بنیاد پر ایک سکیورٹی الرٹ جاری کیا تھا کہ پرویز مشرف کو عدالت میں پیشی کے لیے لاتے ہوئے راستے میں اُن پر حملہ ہو سکتا ہے۔

جس کے بعد سابق صدر کے وکلاء نے عدالت سے استدعا بھی کی تھی کہ اُن کے موکل کو حاضری سے استثنیٰ دے دیا جائے۔

رواں ہفتے ہی غداری کے مقدمے میں سابق فوجی سربراہ پر فرد جرم بھی عائد کی گئی، لیکن پرویز مشرف نے صحت جرم سے انکار کیا۔

بدھ کو پاکستان کی وزارت داخلہ نے سابق فوجی صدر کی طرف سے اپنی بیمار والدہ کی عیادت اور اپنے علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔

پرویز مشرف کی ترجمان آسیہ اسحاق نے بتایا کہ سابق صدر کے وکیل نے وزارت داخلہ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں جمعرات کو ایک درخواست دائر کی ہے۔

’’سپریم کورٹ میں (ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے) نام نکالنے کی اپیل دائر کر دی ہے کیوں کہ پرویز مشرف ہر اس فورم پر گئے جہاں اُن کا جانا بنتا تھا۔‘‘

سابق فوجی صدر پر اُن کے دور اقتدار میں بھی کئی قاتلانہ حملے کیے گئے اور وکلا یہ کہہ چکے ہیں شدت پسند پرویز مشرف پر حملہ کرنا چاہتے ہیں اس لیے اُن کی سکیورٹی کو مزید بہتر بنایا جائے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG