رسائی کے لنکس

مختلف حلقوں میں یہ خدشہ پایا جارہا ہے کہ حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکراتی عمل کو دہشت گردی کی اس تازہ کارروائی سے نقصان پہنچ سکتا ہے۔

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت کی پرہجوم سبزی منڈی میں ہونے والے بم دھماکے کی تحقیقات جاری ہیں لیکن تاحال اس ضمن میں کوئی ٹھوس پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے۔

پولیس نے سبزی منڈی سے ملحقہ کچی بستی سے متعدد مشکوک افراد کو حراست میں لیا ہے جن میں افغان باشندے بھی شامل ہیں جب کہ جائے وقوع سے حاصل ہونے والے واقعاتی شواہد کی چھان بین کا کام جاری ہے۔

بدھ کی صبح ہونے والے اس بم دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 24 ہوچکی ہے جب کہ جڑواں شہروں راولپنڈی اسلام آباد کے اسپتالوں میں درجنوں زخمی اب بھی زیر علاج ہیں۔

یہ دھماکا ایک ایسے وقت ہوا جب کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے توسیع کردہ فائر بندی کی معیاد بھی جمعرات کو ختم ہوگئی۔

گوکہ طالبان نے اس بم دھماکے سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی مذمت بھی کی لیکن مختلف حلقوں میں یہ خدشہ پایا جارہا ہے کہ حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکراتی عمل کو دہشت گردی کی اس تازہ کارروائی سے نقصان پہنچ سکتا ہے۔

ان خدشات کو اس بنا پر بھی تقویت مل رہی ہے کہ گزشتہ ہفتے حکومت اور طالبان کے نامزد کردہ رابطہ کاروں نے اعلان کیا تھا کہ طالبان شوریٰ کے ساتھ سرکاری کمیٹی کی دوسری براہ راست ملاقات جلد ہوگی جو کہ تاحال وقوع پذیر نہیں ہوسکی ہے۔

تاہم حکومت کی طرف سے یہ واضح بیان سامنے آچکا ہے کہ امن کے قیام کے لیے شروع کیے جانے والے مذاکراتی عمل کو کسی بھی صورت نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی حمزہ شہباز نے جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ نواز شریف انتظامیہ امن کے قیام کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھے گی۔

"پاکستانی قوم کا کوئی دشمن جب وار کرنے کی ٹھان لیتا ہے تو سکیورٹی انتظامات ایک حد تک کامیاب ہوتے ہیں جب کوئی بندہ کہتا ہے میں اپنے آپ کو اڑا لینا ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک سوچ ہے، اس سوچ کے خلاف پاکستانی قوم جنگ کر رہی ہے اور اسی سوچ کے خلاف نواز شریف صدق دل سے کاوش کر رہے ہیں۔"

یہ امر قابل ذکر ہے کہ بلوچستان میں علیحدگی پسند کالعدم تنظیم یونائیٹڈ بلوچ آرمی نے اسلام آباد سبزی منڈی بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کی تھی لیکن وزارت داخلہ نے اس دعوے کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا تھا۔

وزارت کے حکام کا کہنا تھا کہ ان کی تحقیقات کے مطابق اس کالعدم تنظیم کا اسلام آباد بم دھماکے سے کوئی تعلق نہیں۔

یونائیٹڈ بلوچ آرمی نے منگل کو بلوچستان کے علاقے سبی میں ایک ریل گاڑی میں ہونے والے بم دھماکے کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی جس میں کم ازکم 17 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں متعدد علیحدگی پسند تنظیمیں سرگرم ہیں جو اکثر و بیشتر صوبے میں سکیورٹی فورسز اور سرکاری تنصیبات پر حملے کرتی رہتی ہیں۔

بلوچستان میں امن و امان کے قیام کے لیے وزیراعظم نوازشریف نے وزیراعلیٰ عبدالمالک بلوچ کو ذمہ داری سونپ رکھی ہے کہ وہ ناراض بلوچ رہنماؤں سے بات چیت کے ذریعے معاملے کو حل کریں، لیکن اس مقصد میں بھی تاحال کامیابی کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG