رسائی کے لنکس

اسلام آباد: سبزی منڈی میں بم دھماکا، 22 ہلاک


کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے اس بم دھماکے سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی سبزی منڈی میں بم دھماکے سے کم از کم 22 افراد ہلاک اور 54 زخمی ہو گئے ہیں۔

ڈاکٹروں کے مطابق زخمیوں میں سے نو کی حالت تشویشناک ہے جس سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

بدھ کی صبح سیکٹر آئی۔ 11 میں واقع سبزی منڈی میں دھماکے کے وقت لوگوں کی ایک بڑی تعداد خرید و فروخت میں مصروف تھی۔

پولیس حکام کے مطابق تقریباً پانچ کلو گرام بارودی مواد پھلوں کی پیٹی میں چھپایا گیا تھا جس میں بظاہر ریموٹ کنٹرول سے دھماکا کیا گیا۔

اسلام آباد پولیس کے سربراہ محمد خالد خٹک نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے بتایا کہ صبح کے وقت منڈی میں لگ بھگ 2000 افراد موجود تھے۔

’’مختلف علاقوں سے فروٹ اور سبزی یہاں آتا ہے جو پھر دیگر علاقوں میں چلی جاتی ہے…. یہ جو فروٹ ہے اس کے بارے میں ہمیں اطلاعات ملی ہیں کہ وہ بورے والا، شرقپور اور پاکپتن کی طرف سے آیا۔ ہم اس کی مزید تحقیقات کر رہے ہیں۔‘‘
پولیس اور امدادی ٹیموں نے جائے وقوع پر پہنچ کر وہاں سے لاشوں اور زخمیوں کو اسپتالوں میں منتقل کیا۔

اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال ’پمز‘ کے ڈاکٹر جاوید اکرم نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ ہلاک و زخمی ہونے والے تمام ہی درمیانی عمر کے مرد ہیں اور اُن میں کوئی بھی پولیس اہلکار شامل نہیں۔

اُدھر کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے ذرائع ابلاغ کو جاری کیے گئے ایک بیان میں اسلام آباد کی سبزی منڈی اور ایک روز قبل بلوچستان کے ضلع سبی میں ریل گاڑی میں ہونے والے بم دھماکوں سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی مذمت کی گئی۔

طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد کا کہنا تھا کہ ان کی تنظیم فائر بندی کے اعلان پر پوری طرح کاربند ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ایسے حملے جن میں عوام کو نشانا بنایا جائے ’’شرعاً نا جائز اور حرام ہیں۔‘‘

وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کہا کہ اس طرح کی کارروائیوں میں ملوث عناصر کے لیے پاکستان میں زمین تنگ ہو رہی ہے۔

’’اُن (طالبان) کی طرف سے بھی جن سے ہم مذاکرات کر رہے ہیں اُنھوں نے بھی اس کی مذمت کی ہے اس سے اپنی لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ جو اس طرح کے واقعات کرنے والے مجرم ہیں وہ پاکستان کے معاشرے میں تنہا ہوتے چلے جا رہے ہیں۔‘‘

سبزی منڈی راولپنڈی اور اسلام آباد کے سنگم پر واقع ہے اور صبح کے وقت منڈی میں خریدو فروخت کرنے والوں کے علاوہ یہاں سے جڑواں شہروں میں آنے جانے والوں کا بھی رش ہوتا ہے۔ منڈی کے قریب ہی جنرل بس اسٹینڈ بھی واقع ہے۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں بم دھماکوں کے واقعات رونما ہو چکے ہیں۔

منگل کو بلوچستان کے علاقے سبی میں ایک ریل گاڑی میں ہونے والے دھماکے سے کم ازکم 17 افراد ہلاک ہوگئے تھے جب کہ منگل کی رات کراچی کے مختلف علاقوں میں کم شدت کے کریکر دھماکے ہوئے۔

تین مارچ کو بھی اسلام آباد میں ایف-ایٹ کچہری کمپلیکس میں خودکش دھماکے اور فائرنگ سے ایک جج سمیت کم از کم 12 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اس واقعے کی ذمہ داری ایک غیر معروف شدت پسند تنظیم احرار الہند نے قبول کی تھی۔

سبزی منڈی کے قریب ہی ایک بہت بڑی کچی بستی بھی ہے جہاں اس سے قبل پولیس کی طرف سے کیے جانے والے سرچ آپریشنز میں متعدد مشتبہ لوگوں کو حراست میں لیا جاچکا ہے۔

وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان بھی وفاقی دارالحکومت اور اس کے نواح میں واقع کچی بستیوں کو سکیورٹی رسک قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کا عندیہ دے چکے ہیں۔

یہ تازہ واقعہ ایک ایسے وقت پیش آیا ہے جب حکومت اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے درمیان مذاکرات کے ذریعے ملک میں امن بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

طالبان نے یکم مارچ کو ایک ماہ کے لیے فائر بندی کا اعلان کیا تھا جس کی معیاد ختم ہونے پر انھوں نے اس میں دس دن کی توسیع کرتے ہوئے خود سے منسلک گروپوں کو کسی بھی طرح کے حملے کرنے سے باز رہنے کا کہا تھا۔

صدر اور وزیراعظم نے اسلام آباد سبزی منڈی میں ہونے والے بم دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG