رسائی کے لنکس

وزیراعظم و اعلیٰ عہدیدار کے خلاف مقدمہ قتل کے اندراج کا فیصلہ معطل


جج جسٹس شوکت صدیقی نے سماعت کے بعد ذیلی عدالت کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے تھانہ سیکریٹریٹ میں دائر ایف آئی آر پر مزید کارروائی روکنے کا حکم دیا اور درخواست گزار اور دیگر فریقوں کو نوٹس جاری کر دیے۔

اسلام آباد کی عدالت عالیہ نے وزیراعظم نواز شریف، وزیراعلی پنجاب، تین وفاقی وزراء اور پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کے ایک ذیلی عدالت کے فیصلے کو معطل کر دیا ہے۔

حکومت مخالف جماعت پاکستان تحریک انصاف نے 31 اگست کو پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے پولیس کی جانب سے مظاہرین پر فائرنگ اور تشدد کے الزام میں یہ مقدمہ درج کرنے درخواست ذیلی عدالت میں دائر کی تھی جس میں یہ موقف اختیار کیا گیا تھا کہ اس اقدام کا وزیراعظم اور دیگر نامزد وزار کی مشاورت سے حکم دیا گیا۔

31 اگست کو پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنے دیے ہوئے مظاہرین نے وزیراعظم ہاؤس کی طرف بڑھنا شروع کیا تو ان کی پولیس سے جھڑپ ہوئی جس میں کم ازکم تین افراد ہلاک جب کہ خواتین اور پولیس اہلکاروں سمیت لگ بھگ پانچ سو افراد زخمی ہوگئے تھے۔

جمعرات کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک رکنی بینچ نے پولیس افسران کی طرف سے دائر کی گئی درخواست کی سماعت کی، جس میں یہ دلائل دیے گئے کہ پولیس اہلکاروں نے مظاہرین کو وزیراعظم ہاؤس کی طرف سے جانے سے روکنے کے لیے یہ اقدام کیا اور ان کے پاس آتشیں اسلحہ نہیں تھا۔

جج جسٹس شوکت صدیقی نے سماعت کے بعد ذیلی عدالت کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے تھانہ سیکریٹریٹ میں دائر ایف آئی آر پر مزید کارروائی روکنے کا حکم دیا اور درخواست گزار اور دیگر فریقوں کو نوٹس جاری کر دیے۔

تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے ہزاروں کارکن 15 اگست کو لاہور سے احتجاجی ریلی کی شکل میں اسلام آباد پہنچے تھے۔ یہ لوگ دو ماہ سے یہاں موجود ہیں گو کہ ان کی تعداد پہلے کی نسبت اب خاصی کم ہوچکی ہے۔

عوامی تحریک کی طرف سے لاہور میں پولیس کے ساتھ جھڑپ میں اپنے ایک درجن سے زائد کارکنوں کی ہلاکت پر بھی وزیراعظم اور وزیراعلیٰ سمیت بعض وزرا کے خلاف قتل کے مقدمات درج کروائے جا چکے ہیں۔

پی ٹی آئی اور عوامی تحریک وزیراعظم نواز شریف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتی آرہی ہیں جسے وزیراعظم سمیت پارلیمان میں موجود دیگر سیاسی جماعتیں مسترد کر چکی ہیں۔

اس ساری صورتحال کی وجہ سے ملک میں گزشتہ دو ماہ سے شدید سیاسی کشیدگی پائی جاتی ہے اور حکومتی عہدیداروں کے بقول اس سے ملکی معیشت کو اربوں روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔

احتجاج کرنے والوں کا کہنا ہے کہ وہ وزیراعظم کے استعفے تک حکومت مخالف احتجاج جاری رکھیں گے۔

XS
SM
MD
LG