رسائی کے لنکس

ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی ملک بھر میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے اور وزارت داخلہ میں ایک خصوصی مانیٹرنگ سیل بھی قائم کیا گیا ہے۔

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف شہروں میں نویں محرم کو ماتمی جلوس نکالے گئے اور مجالس کا اہتمام کیا گیا۔

منگل کو اسلام آباد میں نکالے گئے مرکزی ماتمی جلوس کے موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات دیکھے گئے۔

روایتی طور پر نویں محرم کے جلوس کا اہتمام اسلام آباد جب کہ یوم عاشور یعنی دسویں محرم کے دن راولپنڈی میں مرکزی جلوس نکالا جاتا ہے۔

اسلام آباد میں جلوس کے راستوں کو عام آمد روفت کے لیے بند کر دیا گیا تھا اور ماتمی جلوس میں شامل افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے بڑی تعداد میں سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ ساتھ رضاکاروں کو بھی تعینات کیا گیا۔

سخت سکیورٹی کے انتظامات کے باوجود ماضی میں پاکستان میں نویں محرم اور عاشورہ کے ماتمی جلوس دہشت گردی کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔

پاکستان کے وزیر مملکت برائے اُمور داخلہ بلیغ الرحمن نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ محرم کے دوران حکومت نے لوگوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے ہیں۔

" محرم پاکستان نہایت عقیدت و احترام سے منایا جاتا ہے اور بدقسمتی سے بعض دفعہ کوششیں کی گئی ہیں پاکستان کے امن کو خراب کرنے کی لیکن آپ دیکھ رہے ہیں کی کچھ سالوں سے محرم پر امن گزرے ہیں اور اگر کوئی واقعات ہوئے بھی ہیں تو اس میں لوگوں نے برداشت کا مظاہرہ کیا ہے حکومت نے بہت سنجیدگی سے بہت تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے، تمام حکومتیں، صوبائی حکومتیں مل جل کر اس دفعہ بھی یقینی بنائیں گے کہ محرم بالکل پر امن گزرے اور کوئی بھی سازش کامیاب نا ہو۔"

اسلامی سال کے پہلے مہینے محرم میں پیغمبر اسلام کے نواسے امام حسین اور ان کے ساتھیوں کو کربلا کے مقام پر قتل کیے جانے پر شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے ماتمی جلوس اور مجالس کا اہتمام کرتے ہیں۔

ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی ملک بھر میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے اور وزارت داخلہ میں ایک خصوصی مانیٹرنگ سیل بھی قائم کیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG