رسائی کے لنکس

اسلام آباد میں شیعہ عالم قتل


فائل فوٹو

فائل فوٹو

علامہ عرفانی کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ قبائلی علاقے کرم ایجنسی کے مرکزی قصبے پاڑا چنار میں ایک امام بارگاہ کے متولی تھے اور حال ہی میں اسلام آباد منتقل ہوئے تھے۔

پاکستان میں ایک مذہبی اتحاد "مجلس وحدت المسلمین" نے اپنے ایک رہنما اور شیعہ عالم کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے حکومت کو قاتلوں کو 12 گھنٹوں میں گرفتار کرنے کا الٹی میٹم دیا ہے۔

بدھ کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں نامعلوم مسلح افراد نے شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے علامہ نواز عرفانی کو فائرنگ کر کے ہلاک کردیا تھا۔

یہ واقعہ شہر کے رہائشی علاقے سیکٹر ای۔11 کے قریب پیش آیا۔ پولیس کے مطابق موٹر سائیکل پر سوار حملہ آور فائرنگ کر کے موقع سے فرار ہو گئے جن کی تلاش کے لیے کارروائی جاری ہے۔

علامہ عرفانی کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ قبائلی علاقے کرم ایجنسی کے مرکزی قصبے پاڑا چنار میں ایک امام بارگاہ کے متولی تھے اور حال ہی میں اسلام آباد منتقل ہوئے تھے۔

تاحال اس واقعے کے اصل محرکات سامنے نہیں آ سکے ہیں لیکن اطلاعات کے مطابق پولیس اسے فرقہ وارانہ بنیاد پر قتل کی واردات قرار دے رہی ہے۔

کرم ایجنسی میں ایک عرصے سے فرقہ وارانہ کشیدگی دیکھنے میں آ رہی ہے جہاں شیعہ اور سنی مسلک کے لوگوں میں ہلاکت خیز جھڑپیں بھی ہو چکی ہیں۔

گزشتہ سال نومبر میں عاشورہ کے موقع پر راولپنڈی میں فرقہ وارانہ تصادم کے بعد اس ایک سال کے دوران ملک کے مختلف حصوں بشمول اسلام آباد دونوں فرقوں کے تعلق رکھنے والے متعدد علما کو ہدف بنا کر قتل کیا جا چکا ہے۔

XS
SM
MD
LG