رسائی کے لنکس

پاکستان:شہباز بھٹی کا مبینہ قاتل گرفتار


فائل فوٹو

فائل فوٹو

سابق وفاقی وزیر شہباز بھٹی کو مارچ 2011ء میں اسلام آباد میں اس وقت گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا تھا جب وہ اپنے گھر سے دفتر کے لیے نکلے تھے۔

پاکستان میں پولیس نے اقلیتی امور کے سابق وزیر شہباز بھٹی کے قتل میں مبینہ طور پر ملوث شخص کو گرفتار کیا ہے۔

اسلام آباد پولیس کے ایک ترجمان کے مطابق گرفتار کیے گئے حماد عادل نے اعتراف کیا کہ اس نے اپنے دو ساتھیوں عمر عبداللہ اور تنویر کے ساتھ مل کر شہباز بھٹی کو قتل کیا۔

گرفتار ہونے والے شخص نے قتل کی وجہ سابق وزیر کا توہین رسالت قانون میں تبدیلی کا موقف تھا۔

شہباز بھٹی کو مارچ 2011ء میں اسلام آباد میں اس وقت گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا تھا جب وہ اپنے گھر سے دفتر کے لیے نکلے تھے۔

پولیس کے مطابق حماد عادل نے عیدالفطر کے موقع پر وفاقی دارالحکومت کے قریب واقع بہارہ کہو کی ایک مسجد پر بم حملے کی منصوبہ بندی میں بھی ملوث ہونے کا اعتراف کیا۔

اس سے قبل پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کو بھی کو توہین رسالت کے قانون میں ترمیم اور اس بارے میں بیانات دینے پر ان کے ہی ایک محافظ نے اسلام آباد میں فائرنگ کرکے ہلاک کردیا تھا۔

پاکستان میں توہین رسالت کے قانون پر ایک عرصے سے بحث جاری ہے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس کے "غلط استعمال" کو روکنے کے لیے اس میں ترمیم کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔
XS
SM
MD
LG