رسائی کے لنکس

خیبر پختونخواہ: خواتین سے متعلق مسودہ قانون نظریاتی کونسل نے رد کر دیا


فائل فوٹو

فائل فوٹو

مجوزہ قانون میں خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات، خاص طور پر گھریلو تشدد کی روک تھام کے لیے اقدامات اور اُن کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔

پاکستان کے صوبہ خیبر پختو نخواہ کی حکومت کی طرف سے خواتین کے تحفظ سے متعلق ایک مجوزہ قانون کے مسودے کو اسلامی نظریاتی کونسل نے مسترد کر دیا ہے۔

ملکی قوانین کو اسلام کے مطابق بنانے کے لیے قائم کے گئے مشاورتی ادارے "اسلامی نظریاتی کونسل" کے ایک رکن نے نام نا ظاہر کرنے کی شرط پر وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ مجوزہ قانون اُن کے بقول اسلامی تعلیمات کے منافی تھا، اس لیے اُسے صوبائی حکومت کو واپس بھیج دیا گیا۔

اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن کے مطابق مجوزہ بل کو ازسر نو ہی تیار کرنا ہو گا کیوں کہ اُن کے بقول اُس میں بہت سی خامیاں تھیں۔

مجوزہ قانون میں خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات، خاص طور پر گھریلو تشدد کی روک تھام کے لیے اقدامات اور اُن کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔

صوبہ خیبر پختونخواہ کی حکومت کی طرف سے فوری طور پر اس بارے میں کوئی ردعمل تو سامنے نہیں آیا ہے تاہم صوبائی حکومت میں شامل عہدیداروں کا کہنا ہے کہ خواتین کے تحفظ سے متعلق بل کا مسودہ تیار کرتے وقت نا صرف حقوق نسواں کے لیے آواز بلند کرنے والوں اور معاشرے کے دیگر طبقوں کے نمائندوں سے رائے لی گئی بلکہ علمائے دین کو بھی اس عمل شامل کیا گیا۔

"اسلامی نظریاتی کونسل" کی طرف حالیہ مہینوں میں کئی ایسی سفارشات سامنے آ چکی ہیں جن پر سیاسی و سماجی حلقوں کی طرف سے کڑی تنقید کی گئی جب کہ حال ہی میں کونسل نے خواتین کے حقوق کے تحفظ سے متعلق اپنا ایک مسودہ بھی تیار کیا تھا جس میں تادیب کے لیے شوہر کو اپنی بیوی پر ہلکا پھلکا تشدد کرنے کی اجازت ہونے کا کہا گیا تھا۔

اسلامی نظریاتی کونسل کے ایک رکن کا کہنا ہے کہ خواتین کے تحفظ سے متعلق کونسل جو مجوزہ مسودہ قانون تیار کر رہی ہے وہ ابھی مکمل نہیں ہوا ہے۔

واضح رہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف سے وفاقی و صوبائی حکومتوں کو قانون سازی سے متعلق سفارشات بھیجی جاتی ہیں لیکن آئینی طور پر حکومت ان پر عملدرآمد کی پابند نہیں ہے۔

XS
SM
MD
LG