رسائی کے لنکس

ملک کی سیاسی جماعت پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری نے ایک بیان میں متنبہ کیا ہے کہ ’داعش‘ کا آئندہ ہدف پاکستان ہو سکتا ہے۔

پاکستان میں ایک مرتبہ پھر شدت پسند تنظیم ’داعش‘ کی موجودگی اور اس کے بڑھتے ہوئے ممکنہ اثرورسوخ کے بارے میں تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

حالیہ ہفتوں میں ملک کے مختلف حصوں خاص طور پر صوبہ پنجاب کے وسطی اضلاع میں محکمہ انسداد دہشت گردی نے ’داعش‘ سے وابستہ متعدد عسکریت پسندوں کو ہلاک و گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

جس سے ملک میں ’داعش‘ کی موثر موجودگی کے خدشات کو تقویت ملتی ہے۔

ملک کی سیاسی جماعت پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری نے ایک بیان میں متنبہ کیا ہے کہ ’داعش‘ کا آئندہ ہدف پاکستان ہو سکتا ہے۔

طاہر القادری نے اتوار کو کراچی میں منعقدہ ’امن کانفرنس‘ سے خطاب میں کہا کہ ’’شام اور عراق کے بعد داعش کا الگ ہدف پاکستان ہو گا۔‘‘

اُنھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ’داعش‘ پاکستان میں بتدریج مضبوط ہو رہی ہے اور اپنا دائرہ اثر بڑھا رہی ہے۔

ایک غیر سرکاری ادارے ’انسٹیٹویٹ فار پیس‘ کے سربراہ عامر رانا نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ’داعش‘ کے بارے میں پاکستان میں کچھ حلقوں میں ہمدردی تو ہے جو اُن کے بقول تشویش کا باعث ہے۔

’’اس (داعش) کی نظریاتی قبولیت ہے پاکستانی معاشرے کے کچھ حصوں میں ہے، جو خاصی باعث تشویش ہو سکتی ہے۔ لیکن وہ کسی بڑی حمایت میں بدل جائے گی، اُس کے اس امکانات ابھی نظر نہیں آ رہے ہیں۔‘‘

واضح رہے رواں ماہ ہی میں صوبہ پنجاب کے محکمہ انسداد دہشت گردی نے لاہور میں ’داعش‘کے ایک ریکروٹمنٹ یا لوگوں کو اس تنظیم میں بھرتی کرنے والے سیل سے وابستہ آٹھ انتہا پسندوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

پاکستانی عہدیدار یہ بھی کہتے رہے ہیں کہ گزشتہ دو سالوں میں اُنھوں نے ’داعش‘ سے وابستہ درجنوں افراد کو حراست میں لیا ہے لیکن ساتھ یہ بھی دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ اس تنظیم کا پاکستان میں کوئی منظم وجود نہیں ہے۔

ملک میں داعش سے تعلق رکھنے والوں کی گرفتاریوں اور ہلاکتوں سے متعلق ایک سوال کے جواب میں عامر رانا کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکمے کو مارے جانے والے انتہا پسندوں کے بارے میں پوری معلومات جاری کرنی چاہیں۔

’’شفافیت کا ایک طریقہ کار ہونا چاہیے کہ اگر کوئی پولیس یا قانون نافذ کرنے والا ادارہ کے لوگ دعویٰ کر رہے کہ اُنھوں نے القاعدہ، کالعدم تنظیموں یا داعش کے ہلاک کیے ہیں تو اُن کا ایک پورا ڈیٹا بیس ہونا چاہیئے۔‘‘

تجزیہ کار حسن عسکری رضوی کہتے ہیں کہ ملک میں آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبہ پنجاب سے ’داعش‘ کے حامیوں کا پکڑا جانا یقیناً باعث تشویش ہے۔

’’باعث تشویش اس لیے بنتے ہیں کہ پنجاب میں انتہا پسندوں تنظیم کے خلاف اتنی بڑی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔۔۔۔ اُن کے کارکن یہاں آ کر چھپ گئے ہیں، بڑا صوبہ ہے یہاں غائب ہو سکتے ہیں، یہاں انتہا پسندانہ رجحانات کی قبولیت تو موجود ہے اور لوگ اُن کا ساتھ دیتے ہیں، تو اس لیے اُن میں کچھ لوگ پکڑے جا رہے ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ صوبہ پنجاب کی حکومت کی طرف سے یہ دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ صوبے میں جہاں کہیں سے بھی انتہا پسند و دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع ملتی ہے اُن کے خلاف بھرپور کارروائی کی جاتی ہے۔

رواں سال ستمبر میں پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ نے داعش کی ملک میں موجودگی کے بارے میں پہلی مرتبہ کھل کر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ داعش کے پاکستان میں سربراہ سمیت اس تنظیم سے وابستہ 309 افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں غیر ملکی بھی شامل ہیں۔

حال ہی میں بلوچستان میں ایک درگاہ پر حملے کی ذمہ داری ’داعش‘ نے قبول کی تھی، اس حملے میں 50 سے زائد افراد مارے گئے تھے۔

جب کہ اکتوبر میں کوئٹہ میں پولیس کے تربیتی مرکز میں 60 افراد کی ہلاکت کی ذمہ داری بھی اس تنظیم نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

XS
SM
MD
LG