رسائی کے لنکس

انفارمیشن ٹیکنالوجی کے استعمال میں پاکستان 87 ویں نمبر پر

  • لیزا شلائن

سویڈن، سنگاپور اور ڈنمارک پہلی تین پوزیشنوں پر

سویڈن کی معیشت کو نیٹ ورک رابطوں سے مربوط دنیا کے پہلے نمبر کی معیشت قرار دیا گیا ہے۔ اس بات کا اعلان گلوبل انفارمیشن ٹیکنالوجی کی 2009-2010ء کی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

اس رپورٹ میں دنیا کی 133 معیشتوں کی درجہ بندی اس لحاظ سے کی گئی تھی کہ وہ اپنی معیشت کی ترقی کے لیے انفارمیشن اور کمیونی کیشن ٹیکنالوجی یا آئی سی ٹی کا کتنا بہتر طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ یہ رپورٹ ورلڈ اکنامک فورم نے جنیوا سے جاری کی ہے۔

شمالی یورپ کے چار ممالک اس فہرست کے پہلے دس نمبروں پر ہیں۔ فہرست میں امریکہ دو درجے نیچے چلا گیا ہے اور اب وہ پانچویں درجے پر ہے۔ دو ایشیائی ممالک سنگاپور اور ہانگ کانگ، جنہیں خطے کے اقتصادی ٹائیگر کہا جاتا ہے، اس فہرست کے پہلے دس نمبروں میں شامل ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین اور بھارت میں بھی اس حوالے سے نمایاں ترقی ہوئی ہے اور اب وہ بالترتیب 37 ویں اور43 درجے پر آ گئے ہیں۔ 133 ممالک کی فہرست کے آخر میں شامل ممالک کا تعلق افریقہ اور مشرقی ایشیا سے ہے۔ پاکستان کا نمبر 87 ہے جب کہ چاڈ اس فہرست کا آخری ملک ہے۔

پاکستان نے اپنی رینکنگ گذشتہ سال کے مقابلے پر بہتر بنائی ہے، اور وہ 98 سے 87 پر آ گیا ہے، تاہم مجموعی طور پر پاکستان کی کارکردگی مایوس کن ہے۔

اس درجہ بندی کا پیمانہ یہ ہے کہ اقتصادی کامیابیوں اور عالمی سطح پر مسابقت کے لیے مختلف ملک آئی سی ٹی کا استعمال کس حد تک کر رہے ہیں۔

ورلڈ اکنامک فورم کے ایک ماہر معاشیات ٹائری گائیگر نے وائس آف امریکہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ آئی سی ٹی کا استعمال ان ممالک کی لازمی ضرورت بن چکا ہے جو اپنی دولت اور معیشت کو وسعت دینا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک میں بھی اس ٹیکنالوجی کا استعمال بڑے پیمانے پر بڑھ رہا ہے۔ خاص طور پر موبائل فون ٹیکنالوجی کی مدد سے ان ممالک میں انتہائی ارزاں اخراجات کے ساتھ معیشت بہت تیزی سے ترقی کر رہی ہے، کاروبار کے نئے طریقے سامنے آ رہے ہیں، مالیات، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں نئے انداز سے پیش رفت ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں معیشت ترقی کر رہی ہے۔

اگرچہ رپورٹ میں ترقی یافتہ ممالک میں آئی سی ٹی کی صورت حال کا تجریہ پیش کیا گیا ہے لیکن گائیگر کا کہنا ہے کہ وہ غریب ترین ملکوں کی معاشی پیش رفت کا بھی جائزہ لیتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ درجہ بندی کرتے وقت رپورٹ میں چاڈ جیسے ممالک کا موازنہ امریکہ یا سوئٹزرلینڈ سے نہیں کیا جاتا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم مجموعی صورت حال کے لحاظ سے درجہ بندی کرتے ہیں اور اس درجہ بندی میں ہم وہاں کی آمدنی کو بھی پیش نظر رکھتے ہیں۔ مثلاً چاڈ کا موازنہ برونڈی سے یا برونڈی کا جنوبی افریقہ سے کر کے ان کی معیشت کے کمزور اور مضبوط پہلوؤں کو پرکھا جاتا ہے۔

اس لحاظ سے پاکستان کو کم آمدنی والے ممالک کی فہرست میں رکھا گیا ہے۔ اس فہرست میں 31 ملک شامل ہیں، جن میں پاکستان کا نمبر 14 واں ہے۔ کم آمدنی والے گروپ کے دوسرے ممالک میں چین پہلے، تیونیسیا دوسرے اور بھارت تیسرے نمبر پر ہے۔

گائیگر کہتے ہیں کہ اس رپورٹ کا فائدہ یہ ہے کہ مختلف ممالک اپنی معیشت میں آئی سی ٹی کےاستعمال اور تجربات کا موازنہ کر کے اپنی معیشتوں کو ترقی دینے کے طریقے سیکھ سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے دنیا کے ممالک اپنے اقتصادی نظام کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔

انہوں نے گھانا، بوٹسوانا اور موریشس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان ممالک میں آئی سی ٹی کے فروغ سے معاشرہ ترقی کر رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG