رسائی کے لنکس

پاکستان، اٹلی کا دفاعی و تجارتی تعلقات بڑھانے پر اتفاق

  • عشرت سلیم

سرتاج عزیز اطالوی وزیرخارجہ پاؤلو جینٹیلونی کے ساتھ اسلام آباد میں۔

سرتاج عزیز اطالوی وزیرخارجہ پاؤلو جینٹیلونی کے ساتھ اسلام آباد میں۔

اطالوی وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان، پاکستان، امریکہ اور چین کی طرف سے کی گئی سیاسی اور سفارتی کوششیں بہت اہم ہیں جو ان کے بقول افغانستان کی سیاسی صورتحال میں تبدیلی کا باعث بن سکتی ہیں۔

پاکستان اور اٹلی کے اعلیٰ حکام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ اور دیگر شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

اسلام آباد میں اٹلی کے وزیر خارجہ پاؤلو جینٹیلونی نے جمعرات کو وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز سے ملاقات کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ بات چیت کا ایک اہم موضوع دہشت گردی کے خلاف جنگ تھا اور دنوں ممالک اس کے بارے میں ایک دوسرے سے متفق ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس مشترکہ چیلنج کا مطلب ہے کہ ہماری افغانستان کے استحکام کے بارے میں مشترکہ رائے ہو۔

پاؤلو جینٹیلونی کا کہنا تھا کہ منگل کو جب طالبان کی طرف سے افغان درالحکومت میں ایک سرکاری ادارے پر مہلک حملہ کیا گیا تو وہ کابل میں موجود تھے۔ اس حملے میں کم از کم 64 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن کے لیے داعش، القاعدہ اور طالبان سمیت تمام دہشت گرد گروہوں کے خلاف مضبوط عزم کی ضرورت ہے۔

مگر ساتھ ہی اطالوی وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان، پاکستان، امریکہ اور چین کی طرف سے کی گئی سیاسی اور سفارتی کوششیں بہت اہم ہیں جو ان کے بقول افغانستان کی سیاسی صورتحال میں تبدیلی کا باعث بن سکتی ہیں۔

پاکستان اور اٹلی نے اقتصادی اور تجارتی شعبوں خصوصاً ذراعت، خوراک اور ٹیکسٹائل کے شعبوں میں اپنے تعلقات کو فروغ دینے اور ثقافتی سرگرمیوں کے لیے پاکستان اٹلی کلچرل فورم کے قیام پر اتفاق کیا ہے۔

سرتاج عزیز نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان 2009 میں دفاعی تعاون کا معاہدہ طے ہوا تھا اور وہ اس شعبے میں بھی اپنے تعلقات کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہیں۔

پاؤلو جینٹیلونی نے جمعرات کو وزیراعظم پاکستان سے بھی ملاقات کی جس میں وزیراعظم نے انہیں اپنے دور اقتدار میں ملک کی اقتصادی اور سلامتی کی صورتحال میں بہتری کے لیے کیے گئے اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا۔

اس موقع پر پاؤلو جینٹیلینو نے کہا کہ پاکستان اور اٹلی کے درمیان موجود ایک ارب ڈالر کے تجارتی حجم میں نمایاں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔

ادھر اٹلی کی فوج کے سربراہ جنرل کلاڈیو گرازیانو نے بدھ کو راولپنڈی میں پاکستان فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل راشد محمود سے ملاقاتیں کیں جن میں علاقائی سلامتی کی صورتحال اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

XS
SM
MD
LG