رسائی کے لنکس

ڈیرہ اسماعیل خان:جیل حملے کی تحقیقات اور تادیبی کارروائیاں جاری

  • شیم شاہد

کمشنر ڈیرہ اسماعیل خان مشتاق جدون نے بتایا کہ سرچ آپریشن بدھ کو بھی جاری رہا اور فرار ہونے والے 253 قیدیوں میں سے 42 کو دوبارہ حراست میں لے لیا گیا ہے۔

پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ کے جنوبی شہر ڈیرہ اسماعیل خان کی سنٹرل جیل پرعسکریت پسندوں کے حملے کے دو دن گزرنے کے بعد بدھ کو کرفیو میں دو گھنٹوں کی نرمی کی گئی جب کہ حکام نے بتایا ہے کہ فرار ہونے والے قیدیوں اور حملے میں ملوث عسکریت پسندوں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔

حکومت نے غفلت برتنے کے الزام میں پولیس اور جیل حکام اور اہلکاروں کے خلاف بھی تادیبی کارروائی شروع کر دی ہے۔

بدھ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کمشنر ڈیرہ اسماعیل خان مشتاق جدون نے بتایا کہ سرچ آپریشن بدھ کو بھی جاری رہا اور فرار ہونے والے 253 قیدیوں میں سے 42 کو دوبارہ حراست میں لے لیا گیا ہے۔

’’ایلیٹ فورس کے ایک ڈی ایس پی کو ایکشن لینے میں تاخیر کی وجہ سے معطل کیا گیا اور اس کے بھی 28 اہلکاروں کو معطل کیا گیا ہے جب کہ ابھی جیل سپریٹنڈنٹ کو بھی معطل کردیا گیا ہے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ وہ حکومت کو تجویز کریں گے کہ دہشت گردوں اور عسکریت پسندوں کے لیے علیحدہ جیل بنائی جائے کیونکہ ایک ہی جیل میں سب قیدیوں کو ایک ساتھ رکھنے سے سکیورٹی ممکن نہیں ہوتی۔

ڈیرہ اسماعیل خان کی شہریوں کی ایک کمیٹی نے بدھ کو سنٹرل جیل کا دورہ بھی کیا۔ اس کمیٹی کے ایک رکن یاسین قریشی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ سرکاری کارروائی اپنی جگہ لیکن کرفیو کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

’’ علاقے کے لوگ غریب ہیں، روزانہ اجرت پر کام کرنے والوں کو دو دن سے کام پر جانے میں مشکلات ہیں پھر روزے اور اعتکاف میں بھی لوگوں کو مشکلات ہیں۔ ابھی لوگ اس پر سخت پریشان ہیں اور ان میں کرفیو کے خلاف غصہ پایا جاتا ہے۔‘‘

صوبائی حکومت نے ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی قائم کی ہے جو اس واقعے کی مکمل تحقیقات کر رہی ہے۔

خیبر پختونخواہ کے وزیراطلاعات شوکت یوسفزئی نے کہا کہ ایسے واقعات کو دوبارہ رونما ہونے سے روکنے کے لیے بھی مختلف اقدامات زیر غور ہیں۔ ’’پوری کوشش کر رہے ہیں کہ اپنے پولیس کے محکمے کو انٹیلی جنس کے محکموں کو نظام کو موثر بنائیں۔‘‘

رواں ہفتے ڈیرہ اسماعیل خان شہر کے وسط میں واقع سنٹرل جیل پر حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کرتے ہوئے اہم دہشت گردوں کو جیل سے فرار کرانے کا دعویٰ کیا تھا۔
XS
SM
MD
LG