رسائی کے لنکس

اگرقائدِ اعظم زندہ ہوتے توپاکستان کی یہ حالت نہ ہوتی: پروفیسر شریف المجاہد

  • قمرعباس جعفری

اگرقائدِ اعظم زندہ ہوتے توپاکستان کی یہ حالت نہ ہوتی: پروفیسر شریف المجاہد

اگرقائدِ اعظم زندہ ہوتے توپاکستان کی یہ حالت نہ ہوتی: پروفیسر شریف المجاہد

’ جِن چیزوں کی طرف قائد ِ اعظم نے 11اگست 1947ءکی تقریر میں نشاندہی کی تھی آج ہم میں وہ سب خامیاں موجود ہیں۔ قائد نے امن و امان کی بات کی تھی، انسانی زندگی اور حق ِملکیت محفوظ ہونے کی بات کی تھی اور سکیورٹی کی بات کی تھی۔ دوسری باتوں کے علاوہ، اُنھوں نے بدعنوانی، اقربا پروری اور مفاد پرستی کی برائیوں کی بات کی تھی‘

قائدِ اعظم اسکالر، پروفیسر شریف المجاہدنے کہا ہے کہ اگر قائدِ اعظم آج زندہ ہوتے تو پاکستان کی یہ حالت نہ ہوتی۔

یہ معلوم کرنے پر کہ اگر آج قائدِ اعظم زندہ ہوتے تو پاکستان کے بارے میں اُن کا تاثر کیا ہوتا، اُنھوں نے کہا کہ ’مایوسی ہوتی اور کیا ہوتا؟ لیکن، قائد ِ اعظم اگرزندہ ہوتے تو پاکستان کی یہ حالت نہیں ہوتی‘۔اُنھوں نےیہ بات قائدِ اعظم کی برسی کے موقعے پر اتوار کو ’وائس آف امریکہ‘ کے پروگرام ’اِن دِی نیوز‘ میں کہی، جِس کے دوسرے مہمان نامور وکیل عبید الرحمٰن تھے۔

اِس استفسار پر کہ آج کاپاکستان کس حد تک قائد کے نظریئے پاکستان سے مطابقت رکھتا ہے، پروفیسر شریف المجاہد نے کہا کہ ’آج کا پاکستان، قائدِ اعظم کا پاکستان نہیں ہے۔ اِس کی حالت بگڑ گئی ہے‘۔

اُنھوں نے کہا کہ جِن چیزوں کی طرف قائد ِ اعظم نے 11اگست کی تقریر میں نشاندہی کی تھی آج ہم میں وہ سب خامیاں موجود ہیں۔ ’ اُنھوں نے امن و امان کی بات کی تھی، انسانی زندگی، حق ملکیت کی بات کی تھی اور سکیورٹی کی بات کی تھی۔ دوسری باتوں کے علاوہ، اُنھوں نے بدعنوانی، اقربا پروری اور مفاد پرستی کی برائیوں کی بات کی تھی۔ آج کل ملک جِس نہج پر ہے، کبھی پاکستان کی پوری 64سالہ تاریخ میں نہیں ہوا‘۔

یہ معلوم کرنے پر کہ غلطی کہاں ہوئی، عبید الرحمٰن نے کہا کہ پاکستان میں دو نظریئے چل رہے ہیں، ایک قائدِ اعظم کا وہ نظریہ جو اُنھوں نے 11اگست 1947ء کی تقریر میں اُن لوگوں کو بتلا دیا تھا اور دوسرا جو آج کل کی صورتِ حال ہے۔

اُن کےالفاظ میں: ’ یہ دونوں نظریئے چل رہے تھے، چل رہے ہیں اور انشاٴ اللہ وقت کے ساتھ ساتھ اِس میں سے ایک نظریہ جو حقیقت پسندانہ ہوگا، جو عوام کو جمہوریت دیگا، جو عوام کو آزادی دےگا، جو عوام کو برابری دیگا، ہر ایک کے ساتھ انصاف ہوگا۔ اِن دونو ں میں سے ایک نظریہ ضرور چلے گا۔ وہ نظریہ ضرور چلے گا جو دنیا کو ترقی یافتہ پاکستان بنائے گا‘-

اِس سوال پر کہ قائد کی برسی کے موقعے پر پاکستان کے راہنماؤں کو کیا عزم کرنا چاہیئے، پروفیسر شریف المجاہد کا کہنا تھا کہ لائحہ عمل اور دستور یہی ہے کہ قائدِ اعظم کے اساس کی طرف لوٹیں۔ جمہوریت، مساوی برتاؤ اور سماجی انصاف ضروری ہے۔

قائد کے معالج کرنل الاہی بخش کی کتاب The Last Days of Quaid e Azamمیں زیارت سے کراچی کے آخری سفر کی روداد کے بارے میں ایک سوال پر پروفیسر شریف المجاہدنے بتایا کہ محترمہ فاطمہ جناح کی یہی رائے تھی کہ یہ ایک نجی دورہ تھا۔ محترمہ کے الفاظ میں:’ میں نہیں چاہتی کہ میرے بھائی جو کھڑا ہوکر چلتا تھا وہ اسٹریچر پر لیٹ کر چلے‘۔ اِس سلسلے میں، اُنھوں نے قاضی عیسیٰ اور سید ہاشم رضا کی یادداشتوں کا حوالہ دیا۔ پروفیسر شریف المجاہد نے کہا کہ اُس وقت ہمارے وسائل ایسے نہیں تھے اور ہاشم رضا کے حوالے سے بتایا کہ ’ یہ اُن (قائدِ اعظم) کے حق میں بہتر فیصلہ تھا کہ (کراچی واپسی پر اُن کو لینے کے لیے) کوئی نہ آئے‘۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG