رسائی کے لنکس

صحافیوں کے قتل کی تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچانے کی یقین دہانی


اسلام آباد میں صحافی سراپا احتجاج

اسلام آباد میں صحافی سراپا احتجاج

وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران پاکستان میں مارے جانے والے مقامی صحافیوں کے قتل کی تحقیقات کا معاملہ رواں ہفتے وزیر داخلہ رحمن ملک کی سربراہی میں ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں اُٹھایاجائے گا۔ اس اجلاس میں چاروں صوبوں کے پولیس سربراہان اور داخلہ سیکرٹری بھی شرکت کریں گے۔

پاکستان میں حالیہ دنوں میں صحافیوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور رواں مہینے کے دوران قبائلی علاقوں سے ملحقہ ضلع ہنگو میں مقامی صحافی مصری خان ، صوبہ خیبر پختون خواہ ہی کے ایک علاقے میں صحافی مجیب اللہ کا قتل اور ایک نجی ٹی وی چینل سے وابستہ صحافی اعجاز رئیسانی کی کوئٹہ میں ایک ریلی پر ہونے والے خودکش بم حملے میں ہلاکت کے علاوہ ایک بڑے انگریزی روزنامے کے صحافی عمرچیمہ پر تشدد کے واقعات قابل ذکر ہیں۔

صحافیوں کے قتل اور اُن پر تشدد کے انھی واقعات کے خلاف صحافتی تنظیموں نے پیر کو پارلیمنٹ ہاؤ س کے باہر ایک بڑا مظاہر ہ کیا اور پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے اجلاسوں کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا تھا۔ احتجاجی مظاہرے میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنائے ۔ اس موقع پر یہ اعلان بھی کیا گیا تھا کہ جب تک حکومت اس بارے میں عملی اقدامات نہیں کرتی صحافیوں کا احتجاج جاری رہے گا۔

اس احتجاج کے بعدوزیر اطلاعات قمرزمان کائرہ نے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اور نیشنل پریس کلب کے عہدیداروں سے منگل کو ملاقات کر کے اُنھیں یقین دلایا کہ صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے جب کہ صحافیوں کے قتل کی تحقیقات کا معاملہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں اُٹھایا جائے گا۔

وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران پاکستان میں مارے جانے والے مقامی صحافیوں کے قتل کی تحقیقات کا معاملہ رواں ہفتے وزیر داخلہ رحمن ملک کی سربراہی میں ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں اُٹھایاجائے گا۔ اس اجلاس میں چاروں صوبوں کے پولیس سربراہان اور داخلہ سیکرٹری بھی شرکت کریں گے۔

وفاقی وزیر نے یہ بھی کہا کہ مشکل صورت حال اور پرخطر علاقوں میں فرائض انجام دینے والے صحافیوں کو بلٹ پروف جیکٹس بھی فراہم کی جائیں گی۔

صحافیوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیموں نے بھی پاکستان میں صحافیوں کی ہلاکت اور اُن کو درپیش خطرات پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG