رسائی کے لنکس

سلیم شہزاد کا قتل، پارلیمنٹ کے سامنے صحافیوں کا احتجاجی دھرنا


سلیم شہزاد کا قتل، پارلیمنٹ کے سامنے صحافیوں کا احتجاجی دھرنا

سلیم شہزاد کا قتل، پارلیمنٹ کے سامنے صحافیوں کا احتجاجی دھرنا

صحافیوں کے حقوق اور اُن کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی مقامی اور بین الاقوامی تنظیموں کی طرف سے پاکستانی صحافی سلیم شہزاد کے پراسرار قتل کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے اور اس سے قبل ملک کے مختلف شہروں میں صحافیوں کی مقامی تنظیموں کی طرف سے احتجاجی ریلیاں نکالی جاتی رہی ہیں۔

صحافی سلیم شہزاد کے قتل کی عدالتی تحقیقات سپریم کورٹ کے جج کی نگرانی میں نہ کرانے پر بدھ کو صحافیوں کی تنظیموں نے پارلیمنٹ کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا جو جمعرات کی سہ پہر تک جاری رہے گا۔

پاکستان فیڈ رل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کے صدر پرویز شوکت نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ حکومت کی طرف سے صحافیوں کے مطالبے پر توجہ نہ دینے یہ احتجاجی دھرنا دیا جا رہا ہے۔

ایشیا ٹائمز آن لائن کے اسلام آباد میں بیورو چیف سلیم شہزاد کودو ہفتے قبل اسلام آباد میں اُن کی رہائش گاہ کے قریب سے اغواء کرکے قتل کر دیا گیا تھا اور پاکستان کی صحافتی تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کر رکھا ہے کہ اس واقعہ کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں ایک کمیشن تشکیل دیا جائے۔

حکومت نے ان مطالبات کے جواب میں کمیشن تو قائم کردیا ہے لیکن اُس کا سربراہ وفاقی شرعی عدالت کے جج کو بنایا ہے۔ صحافیوں کی تنظیمیں اس کمیشن سے متفق نہیں ہیں کیوں کہ اُن کا کہنا ہے کہ آئین کے تحت شرعی عدالت کے جج کے اختیارات محدود ہیں۔

صحافیوں کے اس احتجاجی دھرنے میں حکمران جماعت پیپلز پارٹی اور حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ (ن) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے اراکین نے بھی اظہار یکجہتی کے لیے شرکت کی۔



مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے بھی احتجاج میں شرکت کی اور کہا کہ اُن کی جماعت صحافیوں کے مطالبات کی حمایت جاری رکھے گی۔ ” ہم انصاف کا دروازہ اُس وقت تک کھٹکٹاتے رہیں گے جب تک سلیم شہزاد کے قاتلوں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جاتا۔“

صحافیوں سے خطاب میں وفاقی وزیر قانون مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ یہ معاملہ پارلیمنٹ کے اجلاس میں بھی اُٹھایا گیا ہے اور اُنھوں نے صحافیوں کو اپنی حمایت کا یقین دلایا ۔ ”میں اپنا پور ا کردار ادا کروں گا، میں آپ سے الگ نہیں ہوسکتا۔‘‘

صحافیوں کے حقوق اور اُن کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی مقامی اور بین الاقوامی تنظیموں کی طرف سے پاکستانی صحافی سلیم شہزاد کے پراسرار قتل کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے اور اس سے قبل ملک کے مختلف شہروں میں صحافیوں کی مقامی تنظیموں کی طرف سے احتجاجی ریلیاں نکالی جاتی رہی ہیں۔

سلیم شہزاد 29 مئی کو اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ سے ایک مقامی نیوز چینل کے مذاکرے میں شرکت کے لیے جاتے ہوئے لاپتا ہو گئے تھے جس کے دو روز بعد اْن کی لاش وفاقی دارالحکومت سے تقریباً 150 کلومیٹر جنوب مشرق میں صوبہ پنجاب کے شہر منڈی بہاؤالدین کے نواح میں ایک نہر سے ملی تھی۔ پولیس کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق سلیم شہزاد کی لاش پر تشدد کے نشانات نمایاں تھے اور اْن کی ہلاکت بھی سینے پر ضرب لگنے کی وجہ سے ہوئی۔

XS
SM
MD
LG