رسائی کے لنکس

صحافی فیصل قریشی کےقتل پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کی مذمت


صحافی فیصل قریشی کےقتل پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کی مذمت
صحافی فیصل قریشی کےقتل پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کی مذمت

’ابھی تک قتل کیےگئے صحافیوں کو انصاف فراہم کرنے کی کوئی سنجیدہ کوششیں نہیں ہوئیں‘

برطانیہ کے آن لائن اخبار ’لندن پوسٹ‘ سے منسلک 28سالہ صحافی فیصل قریشی کو گذشتہ دِنوں لاہور میں نامعلوم ملزمان نے تشدد کےبعد قتل کردیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کےجنوبی ایشیا سےمتعلق ڈائریکٹر سام ظریفی نے فیصل قریشی کےقتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں اب تک قتل کیے گئے کسی بھی صحافی کے لواحقین کو انصاف فراہم نہیں کیا گیا۔

اتوار کو’ وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو کرتے ہوئے اُنھوں نےکہا کہ ایمنسٹی انٹرنیشل نے دیگر تنظیموں کے ساتھ مل کر پاکستانی حکومت سے صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے اور اُن کی ’ٹارگٹ کلنگ‘ کی آزادانہ تحقیقات کرکے اُنھیں انصاف فراہم کرنے کے مطالبات کیے ہیں۔

’کمیٹی ٹو پراٹیکٹ جرنلسٹس‘ کے مطابق، 2010ء میں سب سے زیادہ صحافیوں کوپاکستان میں قتل کیا گیا، جب کہ رواں سال اب تک چار صحافیوں کوقتل کیا جا چکا ہے، اور اُن میں سے کسی بھی قتل کی آزادانہ تحقیقات نہیں ہو سکیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ڈائرکٹر کا کہنا تھا کہ ابھی تک قتل کیے گئے صحافیوں کو انصاف فراہم کرنے کی کوئی سنجیدہ کوششیں نہیں ہوئیں۔

اٹھائیس سالہ فیصل قریشی کےبھائی اور ’لندن پوسٹ‘ کے ایڈیٹر، ڈاکٹر شاہد قریشی کے مطابق اُن کے بھائی کو گذشتہ کئی ہفتوں سے دھمکی آمیز فون کالز موصول ہو رہی تھیں۔

ڈاکٹر شاہد قریشی نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سےاپنے مقتول بھائی کے قتل کی آزادانہ تحقیقات اورپاکستان میں اُن کے خاندان کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

XS
SM
MD
LG