رسائی کے لنکس

وائس آف امریکہ کے صحافی قاتلانہ حملے میں ہلاک

  • شمیم شاہد

مکرم خان عاطف وائس آف امریکہ کی پشتو سروس ’ڈیوہ‘ کی نمائندگی کیا کرتے تھے۔

مکرم خان عاطف وائس آف امریکہ کی پشتو سروس ’ڈیوہ‘ کی نمائندگی کیا کرتے تھے۔

پاکستان مسلسل گزشتہ دو سالوں سے صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ملک تصور کیا جارہا ہے جہاں 2011ء میں مجموعی طور پر11 صحافی ہلاک ہوئے جب کہ درجنوں کو دھمکیوں اور تشدد کا سامنا رہا۔

پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خواہ میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے وائس آف امریکہ کے ایک صحافی مکرم خان عاطف کو ہلاک کردیا۔

قبائلی علاقے مہمند ایجنسی سے تعلق رکھنے والے مکرم خان عاطف پر یہ حملہ منگل کو صوبائی دارالحکومت پشاور سے 35 کلومیٹر دور شب قدر کے علاقے میں اُس وقت کیا گیا جب وہ ایک مسجد میں نماز مغرب ادا کر رہے تھے۔

مقامی پولیس نے بتایا کہ موٹر سائیکل پر سوار دو حملہ آوروں میں سے ایک نے مسجد میں داخل ہو کر مکرم خان عاطف پر پستول سے تین گولیاں چلائیں جو اُن کے سر اور سینے میں لگیں۔

اُنھیں شدید زخمی حالت میں پشاور کے لیڈی ریڈنگ اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اُن کی جان بچانے کی کوشش کی لیکن قبائلی صحافی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔

مکرم خان عاطف وائس آف امریکہ کی پشتو سروس ’ڈیوہ‘ کے علاوہ ایک مقامی نجی ٹی وی چینل ’دنیا نیوز‘ کے لیے بھی کام کرتے تھے۔

اُن کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ مہمند ایجنسی میں امن وامان کی خراب صورتحال اور جان سے مارنے کی دھمکیاں ملنے کے باعث مکرم خان عاطف اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی عارضی طور پر شب قدر سے کر رہے تھے۔

مکرم خان عاطف رواں سال قتل کیے گئے پہلے پاکستانی صحافی ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں قبائلی صحافی کے قتل کی مذمت اور ملک میں صحافیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

فردوس عاشق اعوان

فردوس عاشق اعوان

’’بدقسمتی سے ملک میں شعبہ صحافت سے تعلق رکھنے والے افراد بھی دہشت گرد عناصر کے نشانے پر ہیں۔‘‘

فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ حکومت واقعے کی تحقیقات کرکے اس میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچائے گی۔

لیکن جنوبی ایشیا میں صحافیوں کی نمائندہ تنظیم ’سیفما‘ کے سیکرٹری جنرل امتیاز عالم نے حکومت کی یقین دہانی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی میں بھی ایسے دعوے کیے جا چکے ہیں لیکن کبھی بھی ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں نہیں لایا جا سکا۔

’’اس سے انتہا پسندوں کی حوصلہ آفزائی ہوئی ہے ... میں وفاقی و صوبائی حکومتوں اور تحقیقاتی اداروں سے مطالبہ کروں گا کہ تازہ ترین واقعے کی تفتیش کرکے قاتلوں تک پہنچا جائے۔‘‘

پاکستان مسلسل گزشتہ دو سالوں سے صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ملک تصور کیا جارہا ہے جہاں 2011ء میں مجموعی طور پر11 صحافی ہلاک ہوئے جب کہ درجنوں کو دھمکیوں اور تشدد کا سامنا رہا۔

صحافیوں کے تحفظ کے لیے کوشاں مقامی اور بین الاقوامی تنظیموں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں صحافیوں کے قتل سے متعلق تحقیقات کا تسلی بخش نہ ہونا ملک میں صحافتی برادری کے خلاف جرائم میں اضافے کی بڑی وجہ ہے۔

XS
SM
MD
LG