رسائی کے لنکس

صحافی پر حملہ، ملوث عناصر کا سراغ ایک 'چیلنج'


فائل

فائل

وزیراعظم نواز شریف نے نجی ٹی وی چینل کے زیر علاج صحافی کی عیادت کے بعد کہا کہ پولیس ’’بڑی دل جمعی‘‘ کے ساتھ اس واقعے کی تفتیش کررہی ہے۔

وزیراعظم نواز شریف نے سینیئر صحافی حامد میر پر حملے سے متعلق تحقیقات کو حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک ’’چیلنج‘‘ قرار دیا ہے۔

پیر کو کراچی میں زیر علاج صحافی کی عیادت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ سندھ، پولیس اور رینجرز کے اعلیٰ عہدیداروں کے اجلاس میں یہ ’’افسوس ناک‘‘ واقعہ زیر بحث آیا اور پولیس ’’بڑی دل جمعی‘‘ کے ساتھ اس کی تفتیش کر رہی ہے۔

’’یہ پولیس اور ہم سب کے لیے چیلنج ہے کہ ہم نے ملزموں کا سراغ لگانا ہے۔۔۔۔۔ کوئی کسر نا چھوڑی جائے تفتیش کے لحاظ سے۔‘‘

مقامی نجی ٹی وی چینل جیو کے صحافی حامد میر پر ہفتہ کو اس وقت مسلح حملہ آوروں نے فائرنگ کی جب وہ کراچی ایئر پورٹ سے اپنے ادارے کے مرکزی دفتر جا رہے تھے۔

اس واقعے کے فوری بعد حامد میر کے بھائی کی طرف سے اس حملے کا الزام فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی پر عائد کیا گیا جسے نا صرف فوج کے ترجمان کی طرف سے گمراہ کن قرار دیا گیا بلکہ کئی سینئیر صحافیوں اور مبصرین کا کہنا تھا کہ تحقیقات سے پہلے ایسے الزامات نا مناسب ہیں۔

طالبان نے بھی اس سے لاتعلقی کا اظہار کیا تاہم شدت پسندوں کے ترجمان نے اپنے بیان میں اس واقعے کو جواز بناتے ہوئے فوج اور آئی ایس آئی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

وزیراعظم کا طالبان سے مذاکرات سے متعلق سوال پر کہنا تھا کہ حکومت سنجیدگی سے معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

’’کبھی کبھی اونچ نیچ ہوجاتی ہے۔ معاملات دگر گوں بھی ہوجاتے ہیں لیکن اپنی طر ف سے ہم پوری کوشش کررہے ہیں کہ اگر ہم ڈائیلاگ کے ذریعے معاملات کو حل کرلیں تو اسی میں سب کی بہتری ہے۔‘‘

طالبان نے نواز انتظامیہ کی طرف سے ان کے بقول شرائط پر عمل درآمد نا کرنے پر گزشتہ ہفتے مذاکرات کے لیے اعلان کردہ فائر بندی میں توسیع سے انکار کردیا تھا جس کے بعد وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے ایک بیان میں کہا کہ فائر بندی کے بغیر ’’بامعنی‘‘ مذاکرات ممکن نہیں۔

ہفتے کو طالبان رابطہ کاروں سے حکومتی کمیٹی کی ملاقات ہونا تھی مگر نا معلوم وجوہات کی بنا پر اسے منسوخ کردیا گیا۔


جوڈیشل کمیشن کے لیے ناموں کی منظوری

دریں اثنا چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس تصدق حسین جیلانی نے حامد میر پر حملے کے تحقیقاتی کمیشن کے لیے تین عدالتِ عظمیٰ کے تین ججز کے ناموں کی منظوری دیدی ہے۔

'جیو نیوز' کے مطابق چیف جسٹس نے عدالتی کمیشن کے لیے جسٹس انور ظہیر جمالی، جسٹس اقبال حمید الرحمان اور جسٹس اعجاز افضل کے نام وزارتِ قانون کو بھجوادیے ہیں جو جلد ہی کمیشن کے قیام کا نوٹی فکیشن جاری کرے گی۔

خیال رہے کہ اتوار کو وزیرِاعظم میاں نواز شریف نے حامد میر پر حملے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے چیف جسٹس سے کمیشن کے ارکان نامزد کرنے کی درخواست کی تھی۔

'جیو نیوز' کے مطابق وزیرِاعظم ہاؤس کے ایک ترجمان نے بتایا ہے کہ کمیشن تین ہفتوں کے اندر اپنی تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ پیش کرے گا۔
XS
SM
MD
LG