رسائی کے لنکس

سی پی جے ایشیا کے لیے پروگرام کو آرڈینیٹر باب ڈیٹز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان میں صحافیوں کے خلاف تشدد کی صورتحال بدستور تشویشناک ہے جس کے تدارک کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

پاکستان میں رواں ہفتے دو صحافیوں کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے قتل کر دیا جس پر مقامی صحافتی برادری کے علاوہ بین الاقوامی تنظیموں نے بھی ایک بار پھر صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے حکومت سے ٹھوس اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

امریکہ میں قائم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) نے جمعہ کو بلوچستان میں سینیئر صحافی محمود جان آفریدی کے قتل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان کی ہلاکت کے تحقیقات کر کے ملوث عناصر کو جلد از جلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

محمود آفریدی 20 سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ تھے اور انھیں جمعہ کی شام قلات کے علاقے میں گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

سی پی جے ایشیا کے لیے پروگرام کوآرڈینیٹر باب ڈیٹز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان میں صحافیوں کے خلاف تشدد کی صورتحال بدستور تشویشناک ہے جس کے تدارک کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

بین الاقوامی صحافتی تنظیموں کے مطابق پاکستان صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ملکوں میں سے ایک ہے۔

سی پی جے کے بیان میں بتا یا گیا ہے کہ گزشتہ سال پاکستان میں سات صحافیوں کو قتل کیا گیا جب کہ رواں برس اب تک تین صحافی مارے جا چکے ہیں۔

جنوری میں کوئٹہ میں ہونے والے بم دھماکے میں صحافی کے ہلاکت کے بعد 27 فروری کو شمالی وزیرستان میں ایک سینیئر صحافی ملک ممتاز کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے ہلاک کردیا تھا۔

ان تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ صحافیوں کی زندگیوں کو درپیش خطرات کا تعین کیا جائے اور ایسے اقدامات کیے جائیں کہ انھیں اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کی بجا آوری میں مشکلات پیش نہ آئیں۔

مقامی صحافیوں کی نمائندہ تنظیم پاکستان یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کے صدر پرویز شوکت نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان صحافیوں کے لیے ایک خطرناک ملک بن چکا ہے اور ان کی تنظیم کے صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیموں کو بھی اس مسئلے سے آگاہ کرتے ہوئے کردار ادا کرنے کے لیے کہا ہے۔

’’ہم تقریبا پچیس تربیتی اجلاس بھی کروا چکے ہیں، جن صحافیوں کو (شورش زدہ علاقوں) میں کام کرنے کی تربیت دی گئی‘‘۔

وزیراطلاعات قمر زمان کائرہ یہ کہتے آئے ہیں کہ دہشت گردی نے جہاں معاشرے کے دیگر طبقوں کو متاثر کیا، اس کے اثرات سے صحافی بھی نا بچ سکے۔ اُن کا کہنا ہے کہ وزارت اطلاعات شورش زدہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کو ضروری تربیت فراہم کرنے کے مضوبے پر کام کر رہی تاکہ وہ خطرات سے بچتے ہوئے اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں نبھا سکیں۔
XS
SM
MD
LG