رسائی کے لنکس

سلیم شہزاد قتل کیس، عدالت عظمیٰ نے متعلقہ وفاقی سیکرٹریوں کو طلب کر لیا


چیف جسٹس افتخار محمد چودھری دیگر اور دیگر جج صاحبان (فائل فوٹو)

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری دیگر اور دیگر جج صاحبان (فائل فوٹو)

عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے جمعہ کو پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی طرف سے صحافی سلیم شہزاد کے قتل کی تحقیقات کے لیے ایک خود مختار کمیشن کے قیام کی درخواست کی ابتدائی سماعت کی۔

سپریم کورٹ نے 20جون کو مقدمے کی آئندہ سماعت کے موقع پر سیکرٹری اطلاعات اورقانون کوعدالت میں پیش ہونے کے لیے نوٹس جاری کر دیئے ہیں ۔

پی ایف یو جے کی طرف سے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی صدر عاصمہ جہانگیر اور منیر اے ملک عدالت کے سامنے پیش ہوئے ۔ پی ایف یو جے کے صدر پرویز شوکت نے کہا کہ حکومت نے جو عدالتی کمیشن بنایا تھا اُس کے بعداُس پر ایک تنازع پید ا ہو گیا تھا ”ہم اس تنازع میں نہیں پڑنا چاہتے ، ہم انصاف چاہتے ہیں ۔ یہ انصاف چاہے ہمیں حکومت سے ملتا ہے یا چیف جسٹس سے ۔“

پاکستان فیڈ ل یونین آف جرنلسٹس کی اپیل پربدھ کی سہ پہر پارلیمنٹ ہاؤ س کے باہر احتجاجی دھرنے کے بعد حکومت نے صحافیوں کے مطالبے کو تسلیم کرتے ہوئے سلیم شہزاد کے قتل کی تحقیقات سپریم کورٹ کے موجودہ جج جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں کرانے کا اعلان کیا۔

لیکن حکومت کے اس اعلان کے کچھ ہی گھنٹوں بعد جسٹس ثاقب نثار نے تحقیقاتی کمیشن کا حصہ بننے سے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس کی رضا مندی کے بغیر سپریم کورٹ کے کسی جج کو تحقیقاتی کمیشن کے لیے نامزد نہیں کیا جاسکتا۔

اس سے قبل حکومت نے وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس کی سربراہی میں حکومت نے سلیم شہزاد کے قتل کے لیے ایک عدالتی کمیشن تشکیل دیا تھا جسے صحافیوں کی تنظیموں نے نامنظور کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ تحقیقا ت سپریم کور ٹ کے جج کی نگرانی میں کرائی جائیں۔

اسلام آباد سے 29مئی کو پراسرار طور پر لاپتا ہونے کے دو روز بعد ’ایشیا ٹائمز آن لائن‘ کے پاکستان میں بیورو چیف سلیم شہزاد کی لاش منڈی بہاوٴالدین کے نواح میں ایک نہر سے ملی تھی۔ مقتول صحافی کے قریبی رشتہ داروں اور پولیس کا کہنا تھا کہ سلیم شہزاد کی لاش پر تشدد کے متعدد نشانات موجود تھے۔

XS
SM
MD
LG