رسائی کے لنکس

صحافیوں کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات کیے ہیں: پرویز رشید


وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید

وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید

وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ پاکستان میں صحافیوں کے لیے بھی اتنے ہی خطرات ہیں جتنے کہ کسی دوسرے شعبے سے تعلق رکھنے والے یا عام شہری کے لیے ہیں۔

پیشہ وارانہ ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے جان سے ہاتھ دھو بیٹھنے والے صحافیوں کی گزشتہ ایک دہائی کی تعداد کو دیکھا جائے تو یہ اپنی جگہ فکر انگیز ہے لیکن اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ صحافیوں کو ہلاک یا ان پر تشدد کرنے والے اکثر ذمہ داران قانون کی گرفت میں نہیں آ پاتے۔

اتوار کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں صحافیوں کے تحفظ اور ان کے خلاف جرائم میں ملوث افراد کو قانون سے بچ نکلنے سے روکنے کا عالمی دن منایا گیا۔

پاکستان کا شمار صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ملکوں میں ہوتا ہے جہاں رواں سال اب تک 14 صحافی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

صحافتی تنظیمیں حکومت سے یہ مطالبہ کرتی آئی ہیں کہ ان کے تحفظ اور ان کے خلاف پرتشدد واقعات میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات اور قانون سازی کی جائے۔

وفاقی وزیراطلاعات پرویز رشید صحافیوں کے خلاف مہلک واقعات کو ملک میں جاری دہشت گردی و انتہا پسندی سے جوڑتے ہوئے کہتے ہیں کہ پاکستان میں صحافیوں کے لیے بھی اتنے ہی خطرات ہیں جتنے کہ کسی دوسرے شعبے سے تعلق رکھنے والے یا عام شہری کے لیے ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ " جب تک پورے پاکستان کو پر امن نہیں بناتے محفوظ نہیں بناتے، دہشت گردی کی اس لعنت سے چھٹکارا حاصل نہیں کر لیتے جو گزشتہ طویل عرصے سے ہمارے لیے عذاب بنی ہوئی ہے تو اس صورتحال میں اس طرح کے واقعات کا ہمیں سامنا کرنا پڑتا رہے گا۔"

لیکن انھوں نے بتایا کہ موجودہ حکومت نے صحافیوں کے تحفظ کے لیے اقدامات بھی کیے ہیں تا کہ ان خطرات کو کم کیا جاسکے اور صحافیوں کے قتل میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کے لیے بھی موثر کوششیں کی جارہی ہیں۔

"ایک تو ہم نے ہاٹ لائن قائم کی ہے وزارت اطلاعات میں کہ جو بھی صحافی محسوس کرے کہ اسے خطرہ ہے یا اسے دھمکی دی جارہی ہے تو حکومت کے مخلتف ادارے اس کے تحفظ کے لیے سرگرم ہو جائیں گے۔ جو خطرناک زون میں کام کرتے ہیں اگر وہ حکومت کو مطلع کر کے جاتے ہیں تو اس پر بھی مناسب انتظامات کیے جائیں گے۔۔۔ پہلے مقدمات نہیں چلتے تھے۔ لیکن اب وزیراعظم صاحب نے فیصلہ کیا ہے ان کے لیے استغاثہ مخصوص ہو گا جو صرف ان کے مقدمات کی پیروی کرے گا۔"

صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیموں کے اعداد و شمار کے مطابق 2000ء سے اب تک دنیا بھر میں 700 جب کہ پاکستان میں 132 صحافی مارے جا چکے ہیں۔

سینیئر تجزیہ کار محمد ضیاالدین پاکستان میں صحافیوں کو درپیش خطرات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس میں جہاں ایک طرف انتہا پسند عسکری تنظیموں کے لوگ صحافیوں کے لیے وبال جان ہیں تو دوسری طرف ان کے بقول بعض ریاستی ادارے بھی نامہ نگاروں کو اپنے لیے خطرہ تصور کرتے ہوئے بعض اوقات انھیں مبینہ طور پر سنگین نتائج سے دوچار کر دیتے ہیں جس پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ صحافیوں پر تشدد کے ذمہ داران کا تعین اور انھیں کیفر کردار تک پہنچانا بہرحال حکومت وقت کی ذمہ داری تو ہے لیکن اپنے تحفظ کے پیش نظر صحافیوں اور ان کے اداروں کو بھی اپنے طور پر اقدامات کرنا ہوں گے۔

"مختلف غیر سرکاری تنظیمیں اور صحافتی تنظیمیں خود بھی ایسے اقدامات کا سوچ رہی ہیں کہ صحافیوں کو کون کون سے ایسے عوام پر نظر رکھنی چاہیئے کہ اپنے ذاتی تحفظ کو بڑھا سکیں اور پھر ان کے اداروں کی طرف سے کون کون سے چیزیں ہونی چاہیئں پھر ان کے جو ایڈیٹرز ہیں ان کو کیا کرنا چاہیئے۔ ہم یہ سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کوئی بھی خبر صحافی کی زندگی سے اہم نہیں ہے۔"

وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید کا کہنا ہے کہ ان کی وزارت کی طرف سے صحافیوں کی انشورنس سے متعلق دستاویزی کارروائی مکمل کر لی گئی ہے اور آئندہ آنے والے دنوں میں وزیراعظم کی منظوری کے بعد اس پر عمل شروع کیا جائے۔ ان کے بقول اس کے تحت تمام صحافیوں کی انشورنس حکومت کی طرف سے مہیا کی جائے گی۔

XS
SM
MD
LG