رسائی کے لنکس

اعلیٰ عدلیہ میں دیانتدار اور ایماندار ججوں کے تقرر کا عزم

  • حسن سید

اعلیٰ عدلیہ میں دیانتدار اور ایماندار ججوں کے تقرر کا عزم

اعلیٰ عدلیہ میں دیانتدار اور ایماندار ججوں کے تقرر کا عزم

پاکستان کے پہلے عدالتی کمیشن کا افتتاحی اجلاس ہفتے کو اسلام آباد میں چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں ہوا جس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ کمیشن قوائد و ضوابط کے مطابق اس بات کو یقینی بنائے گا کہ اعلیٰ عدلیہ میں دیانتدار اور ایماندار ججوں کا تقرر نہایت شفاف انداز میں کیا جائے۔

اس جوڈیشل کمیشن کا قیام اٹھارھویں آئینی ترمیم کی شق 175-A کے تحت عمل میں لایا گیا ہے جس کے سربراہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری ہیں .ہفتے کو ہونے والے اجلاس میں دیگر ارکان کے علاوہ وفاقی وزیر قانون بابر اعوان بھی موجود تھے ۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ کمیشن کا قیام ملک میں ایک جمہوری نظام کی موجودگی کا نتیجہ ہے اور یہ کہ قانونی برادری اور منتخب ارکان پارلیمان کی طرف سے مشترکہ حمایت نے کمیشن کے ارکان کو ایک چھت کے نیچے اکھٹا ہو کر ججوں کی تقرری کے سلسلے میں فرائض سر انجام دینے کا ایک نایاب موقع دیا ہے۔

اٹھارھویں آئنی ترمیم کے تحت اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی تقرری کے نئے طریقہ کار کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا جس کے بعد عدالت عظمی نے گذشتہ ماہ اس شق سے متعلق اپنا عبوری فیصلہ سناتے ہوئے متنازع شق کو نظرثانی کے لیے واپس پارلیمان بھجوا دیا تھا۔

اجلاس سے خطاب میں چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ججوں کی تقرری کے نئے طریقہ کار میں ممکنہ خامیاں ہو سکتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ سپریم کورٹ نے اس ضمن میں دائر درخواستوں کی چارماہ سے زائد عرصے تک سماعت کی اور ان امور کی نشان دہی کی جس پر پارلیمان کو دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے ۔

انہوں نے کہا کہ کیوں کہ یہ معاملہ عدلیہ اور پارلیمان کے زیر غور ہے اس لیے فی الحال کمیشن ایک عبوری طریقے کار کے تحت کام جاری رکھے گا۔

جسٹس افتخار چودھری نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ کمیشن کے ارکان کو جو ذمہ داری سونپی گئی ہے وہ بھرپور طریقے سے اسے نبھائیں گے اور جن ججوں کا تقرر کیا جائے گا وہ بھی انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے پہلے سے بہتر عدالتی نظام کی مثال قائم کریں گے ۔’’ پوری قوم کمیشن سے توقع کر رہی ہے کہ وہ اس کے اعتماد پر پورا اترے اور آئین سے کیے گئے وعدے پورے ہوں ‘‘۔

کمیشن کے اجلاس میں شریک وزیر قانون بابر اعوان نے بعد میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن کا قیام پاکستان کی عدالتی اور پارلیمانی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے کیوں کہ یہ ریاستی اداروں کو مستحکم بنائے گا اور اپنی اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرنے کی آزادی کے سلسلے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

XS
SM
MD
LG