رسائی کے لنکس

عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی، عدالتی کمیشن کی کارروائی مکمل


سپریم کورٹ

سپریم کورٹ

چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں قائم کمیشن کے سامنے جمعہ کو دلائل مکمل ہوئے، تاہم کمیشن کی طرف سے یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ اپنی رپورٹ کا اعلان کب کرے گا۔

پاکستان میں مئی 2013ء کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کرنے والے تین رکنی عدالتی کمیشن نے جمعہ کو اپنی کارروائی مکمل کرتے ہوئے، رائے محفوظ کر لی ہے۔

چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں قائم کمیشن کے سامنے جمعہ کو دلائل مکمل ہوئے، تاہم کمیشن کی طرف سے یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ اپنی رپورٹ کا اعلان کب کرے گا۔

کمیشن کے 39 اجلاس ہوئے اور اس دوران حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف سمیت لگ بھگ 21 سیاسی جماعتوں نے اپنا موقف پیش کیا۔

جب کہ کمیشن کی کارروائی کے دوران مئی 2013ء کے انتخابات کے انعقاد سے وابستہ شخصیات کو طلب کر کے اُن کا موقف بھی سنا گیا۔

جمعہ کو الیکشن کمیشن کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل مکمل کیے، اُن کا موقف تھا کہ تحریک انصاف عام انتخابات میں منظم دھاندلی کے ثبوت فراہم نہیں کر سکی ہے اور محض مفرضوں کی بنا پر بات کی جاتی رہی۔

سلمان اکرم راجہ کا موقف تھا کہ انتخابات میں تکنیکی غلطیوں کو کسی طور بھی منظم دھاندلی سے نہیں جوڑا جا سکتا ہے۔

تحریک انصاف کا الزام رہا ہے کہ 2013ء کے انتخابات میں منظم دھاندلی کرائی گئی۔ جمعہ کو جب کمیشن کا اجلاس ختم ہوا تو تحریک انصاف کے ایک رہنما غلام سرور خان نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ اضافی بیلٹ پیپرز کی چھپائی کے معاملے پر اُن کے بقول الیکشن کمیشن کوئی تسلی بخش جواب نہیں دے سکا۔

تاہم دلائل کے دوران سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ اضافی بلیٹ پیپزز کی چھپائی کسی صورت بھی منظم دھاندلی کو ظاہر نہیں کرتی۔

تحریک انصاف سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور سپریم کورٹ کے جج خلیل الرحمٰن رمدے پر بھی الزام عائد کرتی رہی ہے کہ وہ انتخابات میں مبینہ طور پر منظم دھاندلی میں شامل تھے۔

لیکن نا تو اس حوالے سے کوئی ثبوت پیش کیے گئے اور نا ہی تحریک انصاف کی طرف سابق چیف جسٹس کو گوہواں کی فہرست میں شامل کرنے کے بارے میں کچھ کہا گیا۔

حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے محمد زبیر نے کہا کہ اُن کی پارٹی کمیشن میں ہونے والی پیش رفت سے مطمئن ہے اور اُن کے بقول انتخابات میں کسی طرح کی دھاندلی ہوئی ہی نہیں تھی اس لیے تحریک انصاف کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکی۔

واضح رہے کہ حزب مخالف کی دوسری بڑی اور صوبہ خیبر پختونخواہ میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف گزشتہ عام انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کا الزام عائد کرتے ہوئے حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکلی تھی اور اس نے گزشتہ اگست میں پارلیمان کے سامنے دھرنا دیا جو تقریباً چار ماہ تک جاری رہا۔

اس جماعت کے اراکین قومی اسمبلی نے استعفے بھی دیئے لیکن بعد وہ دوبارہ پارلیمنٹ میں آگئے۔

حکمران مسلم لیگ (ن)، تحریک انصاف کے ان الزامات کو مسترد کرتی ہے کہ وہ منظم دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں آئی۔

دونوں جماعتوں کے درمیان مذاکرات کے طویل سلسلے کے بعد بالآخر دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کے قیام پر فریقین میں اتفاق ہو گیا تھا۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا موقف رہا ہے کہ مبینہ دھاندلی کی تحقیقات سے ان کے بقول آئندہ انتخابات میں شفافیت کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔

XS
SM
MD
LG