رسائی کے لنکس

عدلیہ اور حکومت میں محاذ آرائی، صورتحال غیر یقینی کا شکار


عدلیہ اور حکومت میں محاذ آرائی، صورتحال غیر یقینی کا شکار

عدلیہ اور حکومت میں محاذ آرائی، صورتحال غیر یقینی کا شکار

آئینی و قانونی ماہرین کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق سوئس عدالتوں کو خط لکھنے کی پابند ہے کیونکہ اُن کے خیال میں اس بات کا تعین صرف سپریم کورٹ ہی کر سکتی ہے کہ آیا صدرِ مملکت کو اُن مقدمات میں بھی استثنا حاصل ہے جو عہدہ صدارت سنبھالنے سے پہلے ان پر قائم کیے گئے تھے اور جن کا تعلق قومی سلامتی سے متعلق لیے گئے فیصلوں سے نہیں بلکہ براہ راست آصف علی زرداری کی ذات سے ہے۔

حکومت اور عدلیہ کے درمیان بظاہر چپقلش اور سیاسی منظر نامے پر تبدیلی سے متعلق زور پکڑتی قیاس آرائیوں کے بیچ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی یورپ روانگی سے محض چند روز قبل اپنے دورے کی منسوخی نے پہلے سے مبہم سیاسی ماحول میں مزید الجھاؤ پیدا کر دیا ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ نے رواں ہفتے ایک مختصر بیان میں وزیر اعظم کے فرانس اور بلجیم کے دورے کی منسوخی کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نے یہ فیصلہ ملک میں تباہ کن سیلاب کے بعد کی جانے والی امدادی سرگرمیوں کے سلسلے میں اپنی مصروفیات کے پیش نظر کیا ہے۔ لیکن ذرائع ابلاغ اور مبصرین کا کہنا ہے کہ اس کی اصل وجہ سیاسی عدم استحکام ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی سرپرستی میں قیام مخلوط حکومت کو سیلاب زدگان کی موثر امداد نا کرنے پر کڑی تنقید کا سامنا ہے جب کہ کئی اعلیٰ سرکاری عہدیداروں بشمول بعض وفاقی وزراء پر بدعنوانی میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ کالعدم قومی مفاہمتی آرڈی نینس سے فائدہ حاصل کرنے والوں، جن میں صدر آصف علی زرداری اور وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک بھی شامل ہیں، کے خلاف عدالتی حکم کے باوجود حکومت کا کارروائی سے گریز بھی صورت حال کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے ایک تین رکنی بنچ نے وفاقی حکومت کو ہدایت کر رکھی ہے کہ وہ پیر کو عدالت عظمیٰ کو اُن اقدامات کی تفصیلات سے آگاہ کرے جو این آراو کے خلاف عدالتی فیصلے کے نفاذ کے لیے اب تک کیے گئے ہیں۔گذشتہ سال دسمبر میں سنائے گئے سپریم کورٹ کے اس تاریخی فیصلے میں سوئٹزرلینڈ کی عدالتوں میں بدعنوانی کے مقدمات دوبارہ کھلوانے کے لیے حکومت ِ پاکستان کی جانب سے متعلقہ سوئس حکام کو خط لکھنے کی ہدایت بھی شامل ہے۔

صدر آصف علی زرداری

صدر آصف علی زرداری

سوئس مقدمات کا تعلق صدر آصف علی زرداری سے ہے جو حکمران پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین بھی ہیں۔ لیکن وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور اُن کی حکومت کا موقف ہے کہ آئین میں صدر کو ہرطرح کی عدالتی کارروائی سے استثنا حاصل ہے اس لیے ان کے عہدے کی معیاد مکمل ہونے تک آصف علی زرداری کے خلاف سوئس عدالتوں میں مقدمات دوبارہ کھولنے کے لیے خط نہیں لکھا جا سکتا۔ تاہم نامور پاکستانی آئینی و قانونی ماہرین کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق سوئس عدالتوں کو خط لکھنے کی پابند ہے کیونکہ اُن کے خیال میں اس بات کاتعین صرف سپریم کورٹ ہی کر سکتی ہے کہ آیا صدرِ مملکت کو اُن مقدمات میں بھی استثنا حاصل ہے جو عہدہ صدارت سنبھالنے سے پہلے ان پر قائم کیے گئے تھے اور جن کا تعلق قومی سلامتی سے متعلق لیے گئے فیصلوں سے نہیں بلکہ براہ راست آصف علی زرداری کی ذات سے ہے۔

این آر او کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے پرعمل درآمد کے معاملے پر عدلیہ اور حکومت کے درمیان کشید گی میں گذشتہ جمعہ کواُس وقت شدت اختیار کرگئی جب چیف جسٹس نے سماعت کے دوران متنبہ کیا کہ ملک کے وزیراعظم عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد نہ کرنے کے نتائج سے بخوبی آگاہ ہیں۔

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی

لیکن ٹھیک اُسی روز وزیر اعظم گیلانی نے سینٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر زرداری کا بھرپور انداز میں دفاع کرتے ہوئے اس موقف کودہرایا کہ صدر مسلح افواج کے سپریم کمانڈر اور وفاق کی علامت ہیں اس لیے اُن کے خلاف عدالتی کارروائی کی آئین اجازت نہیں دیتا اور عدلیہ کی طرح پارلیمان کو فیصلوں کا احترام بھی تمام اداروں پر لازم ہے۔ وزیر اعظم کے اس بیان کے بعد تمام نظریں سپریم کورٹ پر لگی ہوئی ہیں جہاں پیر کووفاقی سیکرٹری قانون این آر او پر حکومت کا حتمی موقف پیش کریں گے۔

عدلیہ اور حکومت میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ملک کو ایسے وقت غیر یقینی سیاسی صورت حال سے دوچار کر رکھا ہے جب سیلاب سے متاثر ہونے والے لگ بھگ دو کروڑ افراد کی بحالی پاکستان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے اور فوج ان سیلاب زدگان کی بحالی میں سول انتظامیہ کی کوششوں کی قیادت کر رہی ہے۔

دریں اثنا ایک روز قبل کوئٹہ میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر مملکت برائے دفاعی پیداوار، سردار عبدالقیوم جتوئی نے عدالت عظمٰی کے چیف جسٹس اور فوج کو براہ راست تنقید کا نشانہ بنایا جس سے صورت حال مزید کشیدہ ہوگئی۔ اس متنازع بیان کی پاداش میں جمعہ کی شب وزیر اعظم نے وفاقی وزیر کو اسلام آباد طلب کر کے انھیں ان کے عہدے سے برطرف کردیا ۔ وفاقی وزیر جتوئی نے اپنے متنازعہ بیان میں یہ الزام بھی لگایا کہ بے نظر بھٹو اور نواب اکبر بگٹی کے قتل کی ذمہ دار پاکستانی فوج ہے۔ عدالت عظمیٰ میں این آر او کے فیصلے پر عمل درآمد سے متعلق مقدمے کی پیر کو سماعت کے موقع پر حکمران پیپلز پارٹی کا ایک اجلاس بھی ہو رہا ہے تاہم اس کے ایجنڈے کے بارے میں تفصیل نہیں بتائی گئی ہے۔

پیپلز پارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ پیر کو عدالت میں پیش ہوکر وفاق کی طرف سے صدر کو حاصل استثنا سے متعلق آئینی شق کی تشریح کے لیے سپریم کورٹ سے درخواست کی جائے گی جس سے حکومت کو اپنی آئندہ کی حکمت عملی طے کرنے کے لیے مزید وقت مل سکے گا۔ ان ذرائع کا کہنا ہے کہ فوجی قیادت بھی اس معاملے کو افہام وتفہیم سے حل کرنے اور عدلیہ کے ساتھ کسی قسم کے تصادم سے گریز کرنے کے حق میں ہے ۔

XS
SM
MD
LG