رسائی کے لنکس

بلوچستان میں جبری گمشدگی اور ہدف بنا کر قتل کے واقعات سے متعلق سپریم کورٹ میں دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران جمعہ کو صوبائی پولیس کے عہدیداروں نے الزام لگایا کہ کوئٹہ سے لاپتا ہونے والے تین افراد کی گمشدگی میں نیم فوجی سکیورٹی فورس فرنٹیئر کور (ایف سی) ملوث ہے۔

اسلام آباد میں کمرہِ عدالت میں موجود صوبائی پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں نے بتایا کہ جس ہوٹل سے یہ افراد غائب ہوئے تھے وہاں نصب ’سی سی ٹی وی‘ کیمروں سے حاصل کی گئی ویڈیو کو دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ انھیں ’ایف سی‘ کی گاڑی میں وہاں سے لے جایا گیا۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں اس مقدمے کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ کو صوبائی پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر حامد شکیل نے بتایا کہ فرنٹیئر کور ان کے ادارے کو جواب دہ نہیں بلکہ وفاقی حکومت کے احکامات کے تابع ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری

عدالت نے کہا کہ ایف سی کا موقف سننے کے بعد اس بارے میں احکامات جاری کیے جائیں گے۔

سپریم کورٹ کی ہدایت کے باوجود آئی ایف سی میجر جنرل عبید اللہ جمعہ کو سماعت کے موقع پر عدالت نہیں آئے جس پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کیا۔

عدالت عظمٰی کے اس بینچ نے بلوچستان سے لاپتا ہونے والے افراد سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت کوئٹہ میں کی ہے جس کے بعد سے اب 18 افراد اپنے گھروں کو واپس آ چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG