رسائی کے لنکس

چیف جسٹس کی سربراہی میں آزاد عدلیہ کی پزیرائی خوش آئند

  • یاسر منصوری

امریکی ہفت روزہ میگزین ’ٹائم‘ کی مرتب کردہ دنیا کی 100 انتہائی بااثر شخصیات کی فہرست میں جگہ بنانے کے چند ہفتوں بعد اب پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو انٹرنیشنل کونسل آف جیورسٹس (آئی سی جے) نے اپنے اعلیٰ ترین ایوارڈ کے لیے نامزد کیا ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری

برطانیہ کی سپریم کورٹ کے صدر لارڈ فلپ آئندہ ماہ لندن میں ہونے والی ایک خصوصی تقریب میں پاکستانی چیف جسٹس کو ’انٹرنیشنل جیورسٹ ایوارڈ – 2012‘ پیش کریں گے۔

پاکستان میں آئینی و قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے لیے تازہ ترین اعزازات ملک خصوصاً اس کی عدلیہ کے لیے فخر کا باعث ہیں۔

ان ماہرین میں سپریم کورٹ کے سینیئر وکیل اکرم شیخ بھی شامل ہیں جن کا کہنا ہے کہ موجودہ اعلیٰ عدلیہ صرف عدل فراہم کرنے کی کوشش میں مصروف ہے اور ماضی کے برعکس اس پر ایسی کوئی چھاپ نہیں کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کی حمایت یافتہ ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستانی عدالتی نظام میں حالیہ برسوں میں آنے والی تبدیلی کا ناصرف اندرون ملک بلکہ اب بین الاقوامی برادری نے بھی اعتراف کرنا شروع کر دیا ہے۔

’’اس بات کو تسلیم کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کی عدلیہ ناصرف ’آزاد عدلیہ‘ سے متعلق بین الاقوامی معیار پر پوری اتری ہے بلکہ اُس نے قائدانہ حیثیت حاصل کی ہے، اور کچھ ایسے اقدامات کیے ہیں جو باقی ملکوں میں دیکھنے میں نہیں آتے۔‘‘

اکرم شیخ نے کہا کہ سپریم کورٹ جس سرگرمی سے مقدمات کو نمٹا رہی ہے اس کے اثرات اب ماتحت عدلیہ پر بھی ہو رہے ہیں۔

سپریم کورٹ نے گزشتہ تین سالوں میں بدعنوانی اور اختیارات سے تجاوز کے ایسے کئی معاملات کا ازخود نوٹس لیا ہے جس میں مقننہ اور انتظامیہ سے تعلق رکھنے والی انتہائی بااثر شخصیات ملوث ہیں۔

لیکن بعض ناقدین کا ماننا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ صرف پیپلز پارٹی کی سربراہی میں قائم مخلوط حکومت اور چند مخصوص طبقات کو اپنی کارروائی کا نشانہ بنا رہی ہے۔

اکرم شیخ کے بقول یہ تاثر درست نہیں اور بدعنوانی کے متعدد اسکینڈلز کے منظر عام پر آنے کے باوجود موجودہ حکومت کا چار سال مکمل کرنا اُن کے موقف کا ثبوت ہے۔

اکرم شیخ

اکرم شیخ

’’سپریم کورٹ نے ناصرف جمہوری نظام کے تسلسل کے عزم کا اظہار کیا ہے بلکہ اس کی مخالف قوتوں کا مقابلہ بھی کیا ہے۔ لاپتا افراد کی بازیابی، سیکرٹ فنڈز کے استعمال سمیت بے شمار ایسے مسائل ہیں جو عدالت (عظمیٰ) میں آئے ہیں، اور وہ اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ پاکستان اس ہی طرح کا ملک ہو جس طرح کا تصور دنیا میں ایک فلاحی مملکت کا ہوتا ہے۔‘‘

سپریم کورٹ کے سینیئر وکیل اور سابق جج طارق محمود کہتے ہیں کہ گزشتہ تین سالوں کے دوران پاکستان کی عدلیہ نے جس آزادانہ انداز میں اپنی ذمہ داریاں نبھائی ہیں وہ یقیناً ایک خوش آئند تبدیلی ہے لیکن موثر عدل کو یقینی بنانے کے لیے انتظامیہ کو بھی اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

’’عدلیہ جتنی بھی سرگرم ہو جائے یہ 18 کروڑ عوام کے تمام مسائل حل نہیں کر سکتی۔ اس وقت پارلیمنٹ بھی اپنا کردار ادا نہیں کر رہی۔ ملک انتظامیہ چلاتی ہے جس پر پارلیمنٹ اور عدلیہ کی گہری نظر ہوتی ہے، یہاں پر مصیبت یہ ہو گئی ہے کہ انتظامیہ جو کچھ کرتی ہے پارلیمنٹ اس پر ٹھپا لگا دیتی ہے۔‘‘

اُنھوں نے سپریم کورٹ کی جانب سے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کا مرتکب ٹھہرائے جانے کے بعد اس فیصلے پر سیاسی قوتوں کے ردعمل کو ہدف تنقید بناتے ہوئے اسے غیر ذمہ دارانہ قرار دیا۔

طارق محمود کی رائے میں عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی روشنی میں مسٹر گیلانی وزیر اعظم کے منصب پر فائز رہنے کے اہل نہیں رہے۔

’’لیکن آپ (وزیر اعظم گیلانی) کہتے ہیں کہ اسپیکر صاحبہ مجھے آپ کے علاوہ کوئی نہیں نکال سکتا اور ساری پارلیمنٹ ڈیسک بجا رہی ہے۔ مجھے بہت افسوس ہے اگر یہ ایسے چلیں گے تو اس کا انجام ابھی بھی اچھا نہیں ہو رہا اور آئندہ بھی نہیں ہوگا۔‘‘

پاکستان میں قانونی حلقوں کا خیال ہے کہ موجودہ عدلیہ کو آزادانہ طور پر کام کرتے ہوئے صرف تین سال ہوئے ہیں مگر اس قلیل عرصے میں اس نے جو کامیابیاں حاصل کی ہیں مستقبل میں ملک میں عدل و انصاف کے نظام پر اس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG