رسائی کے لنکس

کمیشن کے دورہِ بھارت سے مقدمے میں تیز پیش رفت متوقع


بھارت کے اقتصادی مرکز میں کیے گئے منظم حملوں میں 166 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے

بھارت کے اقتصادی مرکز میں کیے گئے منظم حملوں میں 166 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے

پاکستان نے کہا ہے کہ استغاثہ اور دفاع کے وکلاء پر مشتمل کمیشن کا دورہِ بھارت جاری ہے اور اس پیش رفت سے ممبئی حملوں سے متعلق پاکستانی عدالت میں جاری مقدمے کی کارروائی کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔

آٹھ رکنی پاکستانی کمیشن نومبر 2008ء میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی تحقیقات سے منسلک بھارتی افسران اور اس واقعہ کے گواہان کے بیانات قلمبند کرنے کے لیے بدھ کو نئی دہلی پہنچا تھا۔

کمیشن کے ارکان نے فروری کے اوائل میں بھارت پہنچنا تھا اور پاکستانی عہدیداروں کے بقول وفد کی تاخیر سے روانگی کی وجوہات تکنیکی نوعیت کی تھیں۔

جمعہ کو اسلام آباد میں وزارتِ خارجہ کے ترجمان عبدالبساط نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب جب کہ کمیشن نے بھارت پہنچ کر اپنی کارروائی شروع کر دی ہے تو یہ یقیناً ایک خوش آئندہ امر ہے۔

’’ہمیں اُمید ہے کہ یہ (دورہ) ممبئی حملوں سے متعلق پاکستان میں جاری مقدمے کو منتقی انجام تک پہنچانے میں مدد کرے گا۔‘‘

بھارت کے اقتصادی مرکز میں کیے گئے منظم حملوں میں 166 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے، اور ان میں کردار ادا کرنے کے الزام میں پاکستان میں بھی سات مشتبہ مسلمان انتہا پسندوں کو حراست میں لے کر اُن پر انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔

پاکستانی حکام روز اول سے یہ کہتے آئے ہیں کہ متعلقہ بھارتی حکام اور گواہان کے بیانات عدالت کے سامنے پیش کیے بغیر مشتبہ افراد کے خلاف مقدمہ میں پیش رفت ممکن نہیں۔

مزید برآں وزارتِ خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے کہا ہے کہ بھارت نے ’سمجھوتا ایکسپریس‘ بم دھماکوں کے پانچ برس گزر جانے کے باوجود ان سے متعلق اپنی تحقیقات کی تفصیلات سے پاکستان کو آگاہ نہیں کیا ہے۔

’’اس واقعہ میں ہلاک ہونے والے پاکستانیوں کے لواحقین اس جرم کے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے اب تک کی گئی کارروائی کے بارے میں جاننے کا حق رکھتے ہیں۔‘‘

ترجمان نے کہا کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ بھارت کو اس معاملے پر ذمہ داری اور تیزی سے پیش رفت کا مظاہرہ کرنا چاہیئے۔

فروری 2007ء میں سمجھوتا ایکسپریس پر بھارتی علاقے پانی پت کے قریب بم حملوں میں 68 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں 42 پاکستانی شہری شامل تھے۔

XS
SM
MD
LG