رسائی کے لنکس

ارسلان افتخار کے خلاف الزامات کی تحقیقات کے لیے نیا کمیشن


سپریم کورٹ

سپریم کورٹ

وفاقی ٹیکس محتسب شعیب سڈل کو تحقیقات کے لیے مکمل اختیارات دیتے ہوئے 30 روز میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ نے چیف جسٹس کے صاحبزادے ارسلان افتخار پر ایک معروف کاروباری شخصیت سے رقم ہتھیانے کے الزامات کی تحقیقات قومی احتساب بیورو (نیب) سے اپنے نامزد کردہ کمیشن کو منتقل کر دی ہیں۔

سپریم کورٹ نے جون کے وسط میں ارسلان افتخار اور ملک ریاض کے مابین لین دین سے متعلق الزامات پر مناسب کارروائی کا حکم دیا تھا، جس کے بعد اٹارنی جنرل نے تحقیقات کی ذمہ داری قومی احتساب بیورو کے سپرد کر دی تھی۔

لیکن ارسلان افتخار نے اٹارنی جنرل عرفان قادر پر تعصب کا الزام لگاتے ہوئے اُن کے اقدام پر عدالت میں نظرِ ثانی کی اپیل دائر کی جس کا فیصلہ جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے جمعرات کو سنایا۔

سترہ صفات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اٹارنی جنرل اُن کو سونپی گئی ذمہ داری سے عہدہ برا ہونے سے قاصر رہے، جب کہ احتساب بیورو کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی کارروائی سے بھی جانبداری کا تاثر ملا۔

عدالت نے ارسلان افتخار سے متعلق الزامات کی تفتیش کی ذمہ داری وفاقی ٹیکس محتسب ڈاکٹر شعیب سڈل کو سونپتے ہوئے ایک ماہ کے اندر تحقیقات نمٹانے کا حکم صادر کیا ہے۔

ملک ریاض کے وکیل زاہد بخاری نے عدالتی فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمیشن کی تشکیل سے قبل فریقین کے اعتراضات دریافت نہیں کیے گئے، اور اُن کے بقول کمیشن انصاف مہیا نہیں کر سکے گا۔

’’ڈاکٹر ارسلان صاحب تفتیش سے بھاگنا چاہتے تھے، تفتیش اپنی مرضی کے چنے ہوئے فرد سے کروانا چاہتے تھے اور وہ اس میں کامیاب ہوئے ہیں۔‘‘

زاہد بخاری کے بقول اس فیصلے سے روایت پڑ جائے گی کہ جس کو اپنے خلاف تفتیش پسند نہیں آئی وہ عدالت سے رجوع کرکے اپنی مرضی کے شخص سے تفتیش کروانا چاہے گا۔

دوسری جانب ارسلان افتخار نے کمرہ عدالت کے باہر صحافیوں سے گفتگو میں اس تاثر کی صریحاً نفی کی کہ دو رکنی بینچ نے اُن کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔

’’آپ میری تحریری درخواست دیکھ لیں ... ہم ایسا کمیشن چاہتے تھے جس میں سابق یا حاضر سروس جج صاحبان ہوں، تو ہماری درخواست تو مسترد ہو گئی ہے۔‘‘

آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ ارسلان افتخار کیس کو جلد سے جلد منطقی انجام پر پہنچانا ناگزیر ہے کیوں کہ اس سے عدلیہ اور حکومت کی ساکھ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

نامور قانونی ماہر سابق سینیٹر ایس ایم ظفر نے مقامی نیوز چینل سے گفتگو میں کہا کہ تحقیقات سست روی کا شکار ہیں۔

’’اس صورت حال میں جب الزام کا بالآخر اثر چیف جسٹس پر بھی پڑتا ہے تو (تحقیقات) معطل رہنا یا کوئی فیصلہ نا ہونا ملک کی عدلیہ اور سیاست دونوں کے لیے مناسب نہیں ہے۔‘‘

بحریہ ٹاؤن نامی رہائشی منصوبے کے روحِ رواں ملک ریاض نے الزام لگایا تھا کہ ارسلان افتخار نے اس یقین دہانی پر اُن سے 34 کروڑ روپے ہتھیائے کہ عدالتِ عظمیٰ میں زیرِ سماعت مقدموں کا فیصلہ اُن کے حق میں کروانے کے لیے وہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں گے۔ مگر ارسلان افتخار ان الزامات کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے مسترد کرتے ہیں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG