رسائی کے لنکس

پاکستان عوامی بحث کی بجائے شواہد کو ترجیح دے گا

  • واجد حسین
  • یاسر منصوری

پاکستان نے کالعدم انتہا پسند تنظیم لشکر طیبہ کے بانی حافظ محمد سعید اور اُن کے ساتھی حافظ عبدالرحمٰن مکی کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے امریکہ سے’’ٹھوس شواہد‘‘ کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔

وزارتِ خارجہ نے اپنے باضابطہ ردعمل پر مبنی بیان اُس امریکی اعلان کے ایک روز بعد جاری کیا ہے جس میں حافظ سعید کی گرفتاری میں مدد دینے پر ایک کروڑ ڈالر کی انعامی رقم کا وعدہ کیا گیا تھا۔

بدھ کو اپنے ایک مختصر بیان میں دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان اس معاملے پر عوامی بحث میں اُلجھنے کی بجائے قانونی کارروائی کے لیے ٹھوس شواہد کی وصولی کو ترجیح دے گا۔

’’پاکستان جیسے ایک جمہوری ملک میں جہاں عدلیہ آزاد ہے کسی (مشتبہ) شخص کے خلاف ثبوت اس قابل ہونے چاہیئں کہ وہ عدالتی معیار پر پورے اتر سکیں۔‘‘

اُدھر وفاقی وزیرِ داخلہ رحمٰن ملک نے بھی اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو میں امریکی فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حافظ سعید کی گرفتاری پر انعامی رقم کا علان کرنے سے پہلے حکومتِ پاکستان کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

’’امریکی حکام کو چاہیئے تھا کہ کم از کم ہم کو لکھ دیتے، اگر ہمیں نہیں لکھنا تھا تو انٹرپول کو لکھ دیتے جو (یہ معاملہ) ہمارے سامنے اُٹھاتا۔‘‘

رحمٰن ملک نے کہا کہ بھارتی حکام کے ساتھ بات چیت میں بھی کسی مرحلے پر بھی پاکستان کو ایسے ٹھوس شواہد فراہم نہیں کیے گئے جن کی بنیاد پر حافظ محمد سعید پر نومبر 2008ء میں ممبئی حملوں میں ملوث ہونے کے الزام میں مقدمہ قائم کرکے اُنھیں گرفتار کیا جا سکے۔

XS
SM
MD
LG