رسائی کے لنکس

متنازع کالا باغ ڈیم ایک بار پھر موضوع بحث


کالا باغ ڈیم کے لیے مجوزہ مقام

کالا باغ ڈیم کے لیے مجوزہ مقام

عوامی نیشنل پارٹی کے رکن قومی اسمبلی پرویز خان کہتے ہیں کہ منصوبے کے معاملے کو دوبارہ زندہ کرنے کا مقصد پاکستان میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے اور وفاق پاکستان کو تقسیم کرنے کی سازش ہے۔

پاکستان جہاں ایک طرف نئے انتخابات کی جانب بڑھ رہا ہے وہیں متنازع کالا باغ ڈیم منصوبہ ایک بار پھر موضوع بحث بن گیا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ نے حال ہی میں وفاقی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ مشترکہ مفادات کی کونسل کے فیصلے کی روشنی میں متنازع کالا باغ ڈیم کی تعمیر پر کام شروع کرے۔

مختلف سیاسی جماعتوں نے اس عدالتی ہدایت پر شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے اور خود حکمران پیپلز پارٹی اور اس کی اتحادی جماعت عوامی نیشنل پارٹی نے ڈیم کی تعمیر کی بھرپور مخالفت کی ہے۔

وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کا کہنا ہے کہ کالا باغ ڈیم منصوبے پر کام کسی عدالتی یا مقننہ کے حکم پر شروع نہیں کیا جا سکتا۔

سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر ملک کے عوام میں کوئی اتفاق رائے نہیں پایا جاتا۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رکن قومی اسمبلی پرویز خان نے اتوار کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ ’’سیاسی بنیاد‘‘ پر کیا گیا اور عدالت ان انتظامی امور پر حکومت سے عمل در آمد نہیں کروا سکتی۔

انہوں نے کہا کہ کالا باغ منصوبے کے معاملے کو دوبارہ زندہ کرنے کا مقصد پاکستان میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے اور وفاق پاکستان کو تقسیم کرنے کی سازش ہے۔

’’اگر توانائی میں کمی کو ختم کرنا ہے تو دریائے سندھ پر متعدد ڈیم بنائے جا سکتے ہیں مگر اس طرف کوئی خیال ہی نہیں۔ یہ سب بد نیتی پر مبنی ہے اس لیے ہمیں کسی صورت یہ منصوبہ قابل قبول نہیں‘‘

پرویز خان نے کہا کہ اس ڈیم کے حمایتی ’’یا تو ڈیم حاصل کر لیں یا پھر پاکستان‘‘۔

صوبہ خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان کی قانون ساز اسمبلیاں پہلے ہی کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے خلاف قراردادیں منظور کر چکی ہیں۔

حزب اختلاف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہد اللہ خان کہتے ہیں کہ ان کی جماعت کا ماننا ہے کہ کالا باغ ڈیم تکنیکی بنیادوں پر بہتر اور کار آمد منصوبہ ہے مگر ملک میں اس منصوبے پر اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے اس منصوبے کی اس وقت تعمیر کی حمایت نہیں کر سکتی۔

پاکستان کو اس وقت توانائی کے شدید بحران کا سامنا ہے اور ماہرین کہتے ہیں کہ ملک کی کمزور معیشت کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لیے حکومت کو اس بحران کے حل کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات اٹھانے ہوں گے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG