رسائی کے لنکس

کیلاش قبیلہ خوف و ہراس کا شکار

  • شمیم شاہد

فائل فوٹو

فائل فوٹو

مشتبہ شدت پسند اس برادری کی دو ہزار سے زائد بھیڑ بکریوں کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے جبکہ ایک روز قبل سات سو کے لگ بھگ جانوروں کو اسی طرح مبینہ طور پر سرحد پار لے جایا گیا تھا۔

پاکستان کے شمال میں واقع کیلاش وادی میں اس برادری کے مقامی لوگوں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے گزشتہ دو روز کے دوران مبینہ طور پر سرحد پار افغانستان سے آنے والے مشتبہ عسکریت پسندوں کی طرف سے کیلاش برادری کے لوگوں کے مویشیوں کو زبردستی ہانک کر اپنے ساتھ لے جانا بتائی جاتی ہے۔

یہ علاقہ افغان صوبے نورستان سے ملحق ہے اور مقامی پولیس کے مطابق ہفتہ کو مشتبہ شدت پسند اس برادری کی دو ہزار سے زائد بھیڑ بکریوں کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے جبکہ ایک روز قبل سات سو کے لگ بھگ جانوروں کو اسی طرح مبینہ طور پر سرحد پار لے جایا گیا تھا۔

جمعہ کو ایسے ہی ایک واقعے میں کیلاش قبیلے کے دو لوگ شدت پسندوں کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے مارے بھی گئے تھے۔

کیلاش ایک غیر مسلم قبیلہ ہے جو سیکڑوں سالوں سے یہاں آباد ہے۔ چند ہزار کی آبادی والا یہ قبیلہ اپنے مخصوص لباس اور رسوم و رواج کی وجہ سے دنیا بھر میں اپنی ایک الگ شناخت رکھتا ہے اور ماضی میں بھی انتہا پسند انھیں غیر مسلم تصور کرتے ہوئے مختلف حملوں میں نشانہ بنا چکے ہیں۔

مقامی پولیس کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط حالیہ واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ علاقے میں پولیس کا گشت بڑھا دیا گیا ہے جب کہ فوج نے بھی یہاں اپنی نگرانی کو مزید بڑھا دیا ہے۔

کیلاش قبیلے کے ایک قبائلی رہنما وزیرزادہ نے اتوار کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ حالیہ واقعات کے بعد اس امن پسند قبیلے کے لوگوں میں خاصا خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔

"ہر گھر میں ہر گاؤں میں لوگ سہمے ہوئے ہیں، اکثر لوگ تو رات اپنے گھر میں بھی نہیں گزار رہے، یہ پریشانی صرف چراہ گاہوں میں ہی نہیں ہے صرف۔ کیلاش کے لوگ بہت خطرہ محسوس کر رہے ہیں۔"

ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی بریر اور بھمبریت میں ایسے واقعات رونما ہو چکے ہیں اور ان میں بھی صرف کیلاش قبیلے کو نشانہ بنایا گیا۔

وزیرزادہ کا کہنا تھا کہ شدت پسند زیادہ تر ان علاقوں میں یہ کارروائی کر رہے ہیں جو فوج کی چوکیوں سے بہت دور ہیں۔

ان کے بقول حالیہ واقعات کے بعد سکیورٹی فورسز نے انھیں مکمل تحفظ کی یقین دہانی کروائی ہے۔

XS
SM
MD
LG