رسائی کے لنکس

کراچی : ہلاکتوں میں اضافہ ،حالات کشیدہ


کراچی : ہلاکتوں میں اضافہ ،حالات کشیدہ

کراچی : ہلاکتوں میں اضافہ ،حالات کشیدہ

کراچی میں گذشتہ دو روز کے دوران ہدف بنا کر قتل کیے جانے کے مختلف واقعات میں کم ازکم 25 افرا د ہلاک ہو گئے ہیں ۔ پولیس حکام کے مطابق تشدد کے بیشتر واقعات اورنگی ٹاوٴن میں پیش آئے جہاں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران جہاں پولیس اور رینجرز نے مشترکہ سرچ آپریشن کر کے 20 سے زائد افراد کو حراست میں لیا ہے۔

شہر میں امن وامان کی بگڑتی ہوئی صورت پر قابو پانے کے لیے وزیراعظم کی ہدایت پر وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک ہفتے کو کراچی پہنچے ۔ جہاں اُنھوں نے مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماء اور علماء کرام سے ملاقاتیں کی ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کراچی میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ ملک کے اس اقتصاد ی مرکز میں امن وامان کی صور ت حال کو بہتر بنانے کے لیے کوششیں کی جارہی ہے تاہم اُن کا کہناتھا کہ کراچی میں امن وامان کی صورت کی خرابی میں کوئی تیسری قوت ملوث ہے لیکن اُنھوں نے اس کی وضاحت نہیں کی۔

گذشتہ روز حکومت کی دو اہم اتحادی جماعتوں ایم کیو ایم اور اے این پی نے کراچی میں تشد د کے واقعات کا ذمہ دار ایک دوسرے کو ٹھہرایا تھا ۔ رحمن ملک نے بتایاکہ اُنھوں نے دونوں جماعتوں کے قائدین سے فون پر بات کی ہے ، جس کے بعد دونوں نے اپنی جماعتوں کو ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی سے روکا ہے۔

ہفتے کو اورنگی ٹاؤن ، قصبہ اور نارتھ ناظم آباداور بعض متاثرہ علاقوں میں صورتحال دوسرے روز بھی کشید ہ رہی اور فائرنگ کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا۔

عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء زاہد خان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ کراچی کو اسلحے سے پاک کر نے کے لیے فوج کو تعینات کیا جانا چاہئیے۔ تاہم متحدہ قومی موومنٹ کی رکن قومی اسمبلی فوزیہ اعجاز خان کا کہنا ہے کراچی میں فوج کی تعیناتی مسئلے کا حل نہیں ہے۔

کراچی میں ہدف بنا کر قتل کیے جانے کے واقعات کا سلسلہ گذشتہ سال سے جاری ہے۔ غیر سرکاری تنظیم ہیومین رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق صرف 2010 ء میں لسانی، سیاسی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر کراچی میں 711 افر اد قتل کیے گئے جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔

XS
SM
MD
LG