رسائی کے لنکس

کراچی میں مال بردار طیارہ گر کر تباہ، 12 ہلاک


جائے حادثہ پر امدادی کارروائیاں جاری

جائے حادثہ پر امدادی کارروائیاں جاری

حکام نے بتایا ہے کہ طیارہ جس جگہ گرا اس سے چند سو گز کے فاصلے پر ہی گنجان آباد علاقہ ہے جہاں کئی منزلہ عمارتوں میں سینکڑوں افراد رہائش پذیر ہیں اور اگر یہ طیارہ ان عمارتوں سے ٹکراتا تو کئی گنا زیادہ جانی نقصان ہو سکتا تھا۔

پاکستان کے سب سے بڑے شہرکراچی میں اتوار کو علی الصبح جارجیا کی ائرلائن سن وے کا مال بردار طیارہ گر کر تباہ ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

سراکاری حکام کا کہنا ہے کہ روسی ساختہ طیارہ کراچی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے پرواز کرنے کے ایک منٹ بعد ہی مقامی وقت کے مطابق تقریباً 1:46 پر ڈالمیا کے علاقے میں پاکستان بحریہ کے افسران کے لیے مخصوص رہائشی کالونی کی حدود میں گر کر تباہ ہو گیا۔

پولیس اور عہدیداروں نے کہا ہے کہ حادثے میں طیارے میں سوار عملے کے تمام آٹھ ارکان اور زمین پر موجود کم از کم چار افراد ہلاک ہو گئے۔ اطلاعات کے مطابق عملے کے اراکین کا تعلق یوکرین سے تھا۔

شہری ہوابازی کے ادارے سی اے اے کے ترجمان پرویز جارج نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ طیارے کے اُڑان بھرنے کے فوری بعد ہی ہوائی اڈے کے کنٹرول ٹاور پر تعینات حکام نے اس میں شعلے بھڑکتے دیکھے اور طیارہ چند لمحوں میں زمین سے جا ٹکرایا۔

اُن کا کہنا تھا کہ پائلٹ نے شہری ہوا بازی کے حکام کو طیارے میں کسی قسم کی فنی خرابی کی اطلاع نہیں دی اور نا ہی حادثے سے قبل ان کے درمیان کوئی گفتگو ہوئی۔

طیارہ گرنے کے بعد فضا میں بلند ہوتے ہوئے شعلے

طیارہ گرنے کے بعد فضا میں بلند ہوتے ہوئے شعلے

عینی شاہدین کا کہناہے کہ اُنھوں نے طیارے کے داھنی حصے میں شعلے دیکھے اور اس کے گرتے ہی ایک زوردار دھماکے کے بعد آگ کا گولہ فضا میں بلند ہوا۔ مقامی ذرائع ابلاغ پر نشر ہونے والے مناظر میں جائے حادثہ پر کئی مکانات کو شعلوں کی لپیٹ میں دیکھا جا سکتا تھا۔

طیارہ گرنے سے لگ بھگ ایک درجن مکانات کو نقصان پہنچا لیکن ان میں سے بیشتر زیر تعمیر تھے۔ امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ایک زیر تعمیر مکان میں چار مزدور موجود تھے جن میں سے دو کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔ ماہرین اور دیگر عملہ تباہ شدہ طیارے کا ملبہ ہٹانے میں مصروف ہے۔

حکام نے بتایا ہے کہ طیارہ جس جگہ گرا اس سے چند سو گز کے فاصلے پر ہی گنجان آباد علاقہ ہے جہاں کئی منزلہ عمارتوں میں سینکڑوں افراد رہائش پذیر ہیں اور اگر یہ طیارہ ان عمارتوں سے ٹکراتا تو کئی گنا زیادہ جانی نقصان ہو سکتا تھا۔

حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ ہفتہ کے روز کراچی پہنچا تھا اور اتوار کی صبح اس نے سوڈان کا شہر خرطوم کے لئے پرواز کی تھی۔

پاکستان میں گذشتہ پانچ ماہ کے عرصے میں پیش آنے والا یہ تیسرا فضائی حادثہ ہے۔

رواں مہینے کے شروع میں کراچی ہی میں تیل تلاش کرنے والی ایک بین الاقوامی کمپنی کی طرف سے چارٹر کیا گیا چھوٹا مسافر بردار طیارہ پرواز کے چند لمحوں بعد گر کر تباہ ہو گیا اور اس میں سوار 21 افراد میں سے کوئی زندہ نہیں بچا۔

اس سے قبل جولائی میں خراب موسم کے دوران دارالحکومت اسلام آباد کے اطراف میں واقع مارگلہ پہاڑیوں میں مقامی نجی کمپنی ائیر بلیو کے ایک طیارے کو پیش آنے والے حادثے میں عملے کے ارکان سمیت 152 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

XS
SM
MD
LG