رسائی کے لنکس

پولیس کے مطابق جسٹس مقبول باقر بدھ کی صبح عدالت جا رہے تھے کہ برنس روڈ پر سندھ ہائی کورٹ کے ججوں کے گیٹ سے کچھ ہی فیصلے پر اُن کی گاڑی کے قریب دھماکا ہوا۔

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں سندھ ہائی کورٹ کے سینیئر جج جسٹس مقبول باقر کی گاڑی کے قریب بم دھماکے میں چھ پولیس اہلکاروں سمیت نو افراد ہلاک ہو گئے۔

جسٹس مقبول باقر سمیت کم از کم 16 افراد اس حملے میں زخمی بھی ہوئے۔

پولیس کے مطابق جسٹس مقبول باقر بدھ کی صبح عدالت جا رہے تھے کہ برنس روڈ پر سندھ ہائی کورٹ کے ججوں کے گیٹ سے کچھ ہی فیصلے پر اُن کی گاڑی کے قریب دھماکا ہوا۔

جسٹس مقبول باقر کا ڈرائیور بھی دھماکے میں ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں۔

کراچی میں پولیس کے ڈی آئی جی ساؤتھ امیر شیخ نے صحافیوں کو بتایا کہ جسٹس باقر معمول کے مطابق اپنے دفتر جا رہے تھے کہ ان پر یہ حملہ کیا گیا۔

دھماکے میں اُن کی حفاظت پر معمور پولیس اور رینجرز کی گاڑی کو شدید نقصان پہنچا۔

پولیس کے مطابق بارودی مواد ایک موٹر سائیکل میں نصب تھا۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ کے مطابق چھ سے آٹھ کلو گرام تک بارودی مواد میں ریموٹ کنٹرول سے دھماکا کیا گیا۔

وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن نے بم دھماکے کے مقام پر صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ’’سندھ حکومت کی جانب سے تمام ججوں کو سیکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔‘‘

اُدھر سندھ بار کونسل نے جسٹس باقر علی پر قاتلانہ حملے کے خلاف بدھ کو عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔

کراچی میں حالیہ ہفتوں کے دوران ہدف بنا کر قتل کرنے اور بم دھماکوں کے واقعات میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
XS
SM
MD
LG