رسائی کے لنکس

کراچی: تشدد کے واقعات میں 10 ہلاک، وزیر اعظم گیلانی کی مذمت


کراچی: تشدد کے واقعات میں 10 ہلاک، وزیر اعظم گیلانی کی مذمت

کراچی: تشدد کے واقعات میں 10 ہلاک، وزیر اعظم گیلانی کی مذمت

پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور تجارتی مرکز کراچی میں جمعہ کو تشدد کی تازہ لہر میں کم از کم 10 افراد ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہو گئے۔

حکام نے بتایا کہ ان واقعات کا آغاز الصباح ملیر کھوکراپار کے علاقے غریب آباد میں ہوا۔ علاقے میں کشیدہ صورتحال پر قابو پانے کے لیے پولیس اور نیم فوجی سکیورٹی فورس رینجرز کے اضافی دستے تعینات کر دیے گئے ہیں۔

نامعلوم افراد کی فائرنگ کے بعد علاقے میں دکانیں بند کر دی گئیں جب کہ ذرائع آمدورفت کی عدم دستیابی کے باعث لوگوں کو روزگار کے حصول اور دفاتر جانے میں بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کراچی میں پیش آنے والے واقعے کی مذمت کی۔

اُنھوں نے کہا کہ امن و امان برقرار رکھنا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے اور وہ متعلقہ صوبائی حکام سے اس واقعے کی رپورٹ حاصل کرکے ایوان کو اس کی تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔

وزیر اعظم گیلانی کا کہنا تھا کہ کراچی میں سیاسی استحکام ملک کی معیشت کی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ ”اس لیے ہم قطعاً یہ نہیں براداشت کر سکتے کہ وہاں امن خراب ہو۔“

مزید برآں ایوان بالا یعنی سینیٹ میں کراچی کی ایک با اثر سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے اراکین نے ساحلی شہر میں پیش آنے والے تشدد کے تازہ ترین واقعات کے خلاف ایوان سے احتجاجاً علامتی واک آؤٹ کیا۔

ایم کیو ایم کے سینیئر رہنما بابر غوری کے بقول مسلح افراد کی فائرنگ سے اُن کی جماعت کے تین کارکن بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

اسلام آباد میں جاری پارلیمان کے دونوں ایوان کے اجلاس حالیہ دنوں میں کراچی میں ہونے والے مختلف پرتشدد واقعات پر بحث کے لیے حزب اخلاف کی درخواست پر بلائے گئے ہیں۔

ایک کروڑ 80 لاکھ آبادی والے اس صنعتی شہر میں رواں ماہ کے دوران اب تک سیاسی اور لسانی بنیادوں پر ہونے والے تشدد کے واقعات میں تقریباً 125 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG