رسائی کے لنکس

عدالت نے آئی جی سندھ فیاض لغاری پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث چار سو سے زائد پولیس اہلکاروں کو اب تک نہ صرف معطل نہیں کیا گیا بلکہ انھیں حساس علاقوں میں ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں امن و امان کی صورتحال سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ نے 423 پولیس اہلکاروں کو معطل کرنے کا حکم دیتے ہوئے سندھ پولیس کے انسپکٹر جنرل کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا ہے۔

منگل کو سپریم کورٹ کی کراچی رجسٹری میں اس کیس کی سماعت جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں ایک پانچ رکنی بینچ کر رہا ہے۔

دوران سماعت بینچ نے آئی جی سندھ فیاض لغاری پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث چار سو سے زائد پولیس اہلکاروں کو اب تک نہ صرف معطل نہیں کیا گیا بلکہ انھیں حساس علاقوں میں ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔

عدالت نے فیاض لغاری کو 423 مشتبہ پولیس اہلکاروں کو معطل کرنے کا حکم دیتے ہوئے اس بارے میں ایک روز کے اندر رپورٹ پیش کرنے کا کہا ہے۔

امن و امان سے متعلق سندھ حکومت کے مشیر شرف الدین میمن نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ’’ہر محکمہ چاہے وہ پولیس ہو یا کوئی اور اس میں ایسے عناصر ہوتے ہیں جنہیں کالی بھڑیں کہا جاتا ہے....ان کی نشاندہی سپریم کورٹ نے کی ہے اور ان سے متعلق احکامات بھی دیے ہیں، ہم نے فوری طور پر عدالتی احکامات پر عمل کیا ہے۔‘‘

پاکستان کا اقتصادی مرکز کراچی کئی سالوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہے اور لوگوں کو نشانہ بنا کر ہلاک کرنے اور تشدد کے دیگر واقعات کا سپریم کورٹ نے بھی ازخود نوٹس لے رکھا ہے اور شہر میں قیام امن کے لیے عدالت صوبائی حکومت کو عملی اقدامات کرنے کے احکامات دے چکی ہے۔

کراچی آبادی کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا شہر ہے جہاں پاکستان بھر سے روزگار کے حصول کے لیے آنے والے لوگ آباد ہیں۔

ملک کی مختلف سیاسی جماعتیں بھی اس بات پر زور دیتی آئی ہیں کہ کراچی میں قیام امن کے لیے شہر میں غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف بلاتفریق مؤثر کارروائی کی جائے۔

مرکز اور صوبہ سندھ میں حکمران پیپلز پارٹی نے حال ہی میں کراچی میں رینجرز اور پولیس کو حساس علاقوں میں ٹارگٹڈ ایکشن کرنے کی ہدایت بھی کی تھی جب کہ صوبے کے بعض دیگر علاقوں سے پولیس کی اضافی نفری کو کراچی میں تعینات بھی کیا گیا ہے۔
XS
SM
MD
LG