رسائی کے لنکس

نماز جنازہ میں زندگی کے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات اور خواتین سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی۔

پاکستان کے معروف قوال امجد صابری کو جمعرات کو کراچی میں پاپوش نگر کے قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

اس سے قبل مقتول کی نماز جنازہ میں زندگی کے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی۔

ان کے جنازے میں خواتین کی ایک بڑی تعداد بھی شریک تھی۔

امجد صابری کو بدھ کی سہ پہر کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔

40 سالہ امجد صابری اپنے والد غلام فرید صابری اور چچا مقبول صابری کے فن کو لے کر آگے چلے تھے اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو اپنے سے گرویدہ کیا۔

امجد صابری ایک ٹی وی چینل میں پروگرام کے لیے جا رہے تھے کہ موٹرسائیکل پر سوار نامعلوم حملہ آوروں نے انھیں گولیاں سے نشانہ بنایا۔

ان کی میت کو تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد جمعرات کی صبح ان کے گھر منتقل کیا گیا تھا جہاں سے میت کو نماز جنازہ کے لیے لیاقت آباد نمبر چار لایا گیا۔

امجد صابری کی موت پر پاکستان سمیت دنیا بھر میں ان کے چاہنے والوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔

بعض ایسی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں کہ انھیں کچھ مذہبی انتہا پسندوں کی طرف سے دھمکیاں ملتی رہی ہیں لیکن امجد صابری کے بھائی ثروت صابری نے ان اطلاعات کو مسترد کیا۔

ثروت صابری لندن سے اپنے بھائی کی موت کی خبر سن کر کراچی پہنچے تھے جہاں صحافیوں سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ "میرے بھائی کو کبھی کوئی دھمکی نہیں ملی۔"

پولیس نے اس واقعے کی تحقیقات شروع کر رکھی ہیں اور عینی شاہدین کی مدد سے مشتبہ حملہ آور کا خاکہ تیار کر کے اسے بھی ذرائع ابلاغ میں جاری کر دیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG