رسائی کے لنکس

پاک بحریہ کی بسوں پر حملہ، بے اثر حکمت عملی کا مظہر


پاک بحریہ کی بسوں پر حملہ، بے اثر حکمت عملی کا مظہر

پاک بحریہ کی بسوں پر حملہ، بے اثر حکمت عملی کا مظہر

کراچی میں مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے اختلافات کا دہشت گرد تنظیمیں بھر پور فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ شہر میں منگل کو پاکستان بحریہ کی بسوں پر ہونے والے حملے اور اس پر وزیراعلیٰ سندھ کا یہ بیان کہ انہیں پیشگی اطلاع تھی ، اس بات کا واضح ثبوت ہیں۔ پیر کو مسلم لیگ ن کے رہنما سردار رحیم کے ہوٹل اور پارٹی دفتر پر حملہ بھی انہی اختلافات کی طرف نشاندہی کررہا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ شہر میں کئی ماہ سے پرتشدد واقعات کا سلسلہ جاری ہے اور رینجرز کو خصوصی اختیارات دینے کے باوجود ان میں کوئی کمی نہیں آ سکی ۔

مبصرین منگل کے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سیاسی و مذہبی جماعتوں کے کارکنان، عام شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ساتھ دہشت گردوں نے فوج کو بھی نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے جبکہ ایسے واقعات سے نمٹنے کیلئے حکومت وقت کی تمام تر حکمت عملی بے اثر دکھائی دیتی ہے ۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو پا رہا کہ ان واقعات کے پیچھے اصل محرکات کون سے ہیں ۔

پاک بحریہ پر دوسرا بڑا حملہ

منگل کو پاکستان نیوی پر سات سال کے دوران ہونے والا یہ دوسرا بڑا حملہ ہے ۔ اس سے قبل مئی دو ہزار دو میں کراچی کے ایک ہوٹل کے باہر ہونے والے دھماکے میں پاکستان نیوی کیلئے کام کرنے والے گیارہ فرانسیسی انجینئراورتین پاکستان ہلاک ہو گئے تھے ۔

ادھر ماہرین نے موجودہ صورتحال جاری رہنے کی صورت میں آنے والے وقتوں میں مزید منظم دہشت گردانہ کارروائیوں کا خدشہ ظاہر کیا ہے ۔ادھر وزیر اعلیٰ سندھ جن کے پا س صوبائی وزارت داخلہ بھی ہے ان کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کو پیشگی اطلاع تھی کہ اس طرح کے واقعات ہو سکتے ہیں ۔ مبصرین کے مطابق پیشگی اطلاع کے باوجود اس طرح کے واقعات ہوجانا حیران کن ہیں ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اس طرح کے واقعات کا سامناکرنے کیلئے تیار ہے ۔

گزشتہ سال 538 اور رواں سال کے صرف تین ماہ میں330 ہلاکتیں

حقوق انسانی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کراچی میں پرتشدد واقعات میں مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنان اور عام شہریوں سمیت538 افراد ہلاک ہوئے جبکہ رواں سال کے ابتدائی ساڑھے تین ماہ کے دوران ہی 330 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں جس۔ ان اعداوشمار سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دہشت گردی کے واقعات میں کتنی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ۔

رینجرز بھی پرتشدد واقعات روکنے میں ناکام

پرتشدد واقعات کو روکنے کے لئے پاکستان رینجرز کو صوبائی حکومت کی جانب سے گزشتہ ہفتے ہی مزید اختیارات دیئے گئے ہیں جن کے تحت وہ شہر کے کسی بھی علاقے میں محاصرہ، ناکہ بندی اور شہریوں کو حراست میں لینے کااختیاررکھتی ہے ۔ رینجرز اہلکار کسی بھی مشتبہ فرد کو تیس دن تک تحویل میں رکھ کر تفتیش کر سکتے ہیں۔ ان اختیارات کے باوجود پرتشدد واقعات میں کمی نہیں آ رہی اور بدھ کو ہونے والے پاک بحریہ کی بسوں پر حملے نے مزید نئے سیکورٹی خدشات کو جنم دے دیا ہے ۔

حکومت کو دیگر آپشنز پر غور کرنا ہوگا

واضح رہے کہ رینجرز کے کراچی میں قیام کی گزشتہ بیس سالوں سے توسیع کی جا رہی ہے ۔1991 میں پہلی مرتبہ رینجرز کو صوبائی حکومت نے امن و امان کی صورتحال پر قابو پانے کے لئے طلب کیا تھا تب سے اب تک رینجرز کے پاس خصوصی اختیارات بھی ہیں اور کراچی میں قیام کا اجازت نامہ بھی۔ لیکن پرتشدد کارروائیوں اور دہشت گردی کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ حکومت کو اب دیگر آپشنز پر بھی صدق دل سے غور کرنا ہوگا۔

XS
SM
MD
LG