رسائی کے لنکس

شہر میں کاروباری سرگرمیاں جزوی طور پر بحال ہیں لیکن مختلف مقامات پر بازار، پٹرول پمپس اور اسکولوں کے بند ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

حکومت کے خلاف گزشتہ چار ماہ سے سراپا احتجاج پاکستان تحریک انصاف کے کارکن جمعہ کو ملک کے سب سے بڑے شہر اور اقتصادی مرکز کراچی کے مختلف مقامات پر دھرنا دیے ہوئے ہیں جو کہ ان کے قائد عمران خان کی طرف سے اعلان کردہ 'پلان سی' کا حصہ ہے۔

عمران خان نے 2013ء کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی شفاف تحقیقات شروع نہ کروانے پر حکومت کے خلاف اپنے احتجاج کے سلسلے میں ملک کے مختلف شہروں کو ایک، ایک روز کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔

کراچی کی اہم سڑک شارع فیصل، ایم اے جناح روڈ کے علاوہ سٹار چورنگی، نمائش چورنگی اور نرسری کے مقام پر پی ٹی آئی کے کارکن جمع ہیں۔

جماعت کے رہنما عارف علوی یہ کہہ چکے ہیں کہ جمعہ کو ان کے لوگ کسی گاڑی کو سڑک پر نہیں آنے دیں اور وہ پرامن احتجاج کے ذریعے شہر کو بند کریں گے۔

بعض مقامات پر پی ٹی آئی کے کارکنوں کی طرف سے ٹائر جلا کر سڑکوں کو بند کیا گیا جس سے ٹریفک کی روانی میں شدید خلل پڑا ہے۔

شہر میں کاروباری سرگرمیاں جزوی طور پر بحال ہیں لیکن مختلف مقامات پر بازار، پٹرول پمپس اور اسکولوں کے بند ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

حکومت سندھ نے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری تعینات کر رکھی ہے اور حکام کا کہنا ہے پرامن احتجاج کرنے والوں کو نہیں روکا جائے گا لیکن اگر کسی نے "بدامنی" پھیلانے کی کوشش کی تو قانون حرکت میں آئے گا۔

آٹھ تاریخ کو پاکستان تحریک انصاف نے فیصل آباد میں بھی احتجاج کیا تھا اور جس دوران ہونے والی ایک جھڑپ میں اس کا ایک کارکن ہلاک ہو گیا تھا۔ پی ٹی آئی اس ہلاکت کی ذمہ داری حکومت پر عائد کرتے ہوئے الزام لگاتی ہے کہ ان کا کارکن مسلم لیگ ن کی فائرنگ سے ہلاک ہوا۔ لیکن حکومت اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے اس کی تحقیقات کا حکم دے چکی ہے۔

دوسری جانب حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کے ذریعے سیاسی کشیدگی کو ختم کرنے کی کوششیں دوبارہ شروع ہو چکی ہیں اور دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کا ایک دوسرے سے اس بارے میں رابطہ بھی ہوا ہے۔

XS
SM
MD
LG