رسائی کے لنکس

کراچی: رینجرز کا ایم کیو ایم کے مرکز پر چھاپہ، درجنوں گرفتار


ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے لندن سے ٹیلی فون پر کراچی میں اپنے کارکنوں سے خطاب کے دوران رینجرز کی کارروائی کی سخت مذمت کرتے ہوئے رینجرز حکام کے دعوؤں کو مسترد کیا ہے۔

پاکستان کے اقتصادی مرکز میں بااثر سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے مرکز "نائن زیرو" پر رینجرز نے بدھ کو علی الصبح چھاپا مار کر یہاں سے بڑی مقدار میں اسلحہ برآمد کرنے کا بتایا ہے۔

رینجرز ترجمان کا کہنا ہے کہ ہے کہ عزیز آباد کے علاقے میں واقع نائن زیرو میں آپریشن مکمل معلومات کی بنیاد پر کیا گیا اور دو گھنٹے تک سرچ آپریشن کے دوران بڑی مقدار میں اسلحہ جس میں ممنوعہ بور اور غیر ملکی اسلحہ بھی شامل ہے، برآمد ہوا۔

آپریشن کے دوران ترجمان کے دعوے کے مطابق سزا یافتہ ٹارگٹ کلرز بھی یہاں موجود تھے جنہیں گرفتار کر لیا گیا جب کہ ایم کیو ایم کے ایک رہنما عامر خان کو پوچھ گچھ کے لیے ساتھ رکھا گیا۔

رینجرز کے ترجمان کرنل طاہر نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی مکمل طور خفیہ معلومات کی بنیاد پر کی گئی اور اس کا کوئی سیاسی پس منظر نہیں۔

"معلومات تھیں کہ یہاں کچھ سزا یافتہ جرائم پیشہ افراد موجود ہیں، انھیں حراست میں لیا ہے۔۔ ایسا اسلحہ یہاں موجود ہے جس کی پاکستان میں ممانعت ہے، ہم تفتیش کریں گے اس میں میرے خیال میں نیٹو کنٹینر جو چوری ہوئے ان کا اسلحہ بھی ہے جس پر سائلنسر لگے ہوئے تھے۔"

"نائن زیرو" پر رینجرز کے چھاپے کے خلاف ایم کیو ایم کے سینیٹرز نے بدھ کو سینیٹ کے اجلاس سے احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔

خورشید میموریل ہال کو سیل کردیا گیا ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ اس بارے میں تحقیقات کی جائیں گی کہ یہ اسلحہ یہاں کیسے پہنچا۔

ایم کیو ایم کے حامی احتجاج کرتے ہوئے

ایم کیو ایم کے حامی احتجاج کرتے ہوئے

رینجرز کے چھاپے اور اس کے بعد یہاں ایم کیو ایم کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد نے احتجاج کیا جب کہ اس دوران فائرنگ کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔

متحدہ قومی موومنٹ نے اس کارروائی کا وزیراعظم نواز شریف سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے لندن سے ٹیلی فون پر کراچی میں اپنے کارکنوں سے خطاب کے دوران رینجرز کی کارروائی کی سخت مذمت کرتے ہوئے رینجرز حکام کے دعوؤں کو مسترد کیا ہے۔

الطاف حسین نے دعویٰ کیا کہ چھاپے کے دوران ان کے 60 کارکنوں کو حراست میں لیا گیا۔

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ستمبر 2013ء میں رینجرز اور پولیس نے مشترکہ ٹارگٹڈ آپریشن شروع کیا تھا جس کا مقصد جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی اور شہر میں امن و امان بحال کرنا تھا۔

متحدہ قومی موومنٹ شروع ہی سے یہ کہہ کر اس آپریشن پر تنقید کرتی رہی ہے کہ "ٹارگٹڈ آپریشن" کی آڑ میں صرف اس کے کارکنوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

تاہم حکومتی اور سکیورٹی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ یہ بلا تفریق کارروائی صرف جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کی جا رہی ہے۔

نائن زیرو پر چھاپہ متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنوں کے لیے ایک غیر معمولی بات ہے اور اس کے خلاف کراچی کے علاوہ سندھ کے مختلف علاقوں سے مظاہروں کی اطلاعات آنا شروع ہو گئی ہیں۔

کراچی میں کاروباری مراکز، پٹرول پمپس، اور تعلیمی ادارے بند ہیں جب کہ پبلک ٹرانسپورٹ کے اتحاد نے بھی اپنی گاڑیاں سڑکوں پر نہ لانے کا اعلان کیا۔

شہر کی فضا میں خاصی کشیدگی پائی جارہی ہے جب کہ رینجرز حکام نے شہریوں سے بلا خوف و خطر اپنے معمولات زندگی جاری رکھنے کا کہتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ کسی بھی طرح کی غیر قانونی سرگرمی کی اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔

XS
SM
MD
LG